برطانیہ میں سینیگاگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ساڑھے تین ہزار سال قدیم یہودی مذہب کے پیروکاروں کی اس وقت دنیا بھر میں تعداد بارہ ملین سے زیادہ ہے جبکہ یہ عجب حقیقت ہے کہ اسرائیل سے زیادہ تعداد میں یہودی یعنی باؤن لاکھ اسی ہزار امریکہ میں مقیم ہیں۔ کثیر نسلی، کثیر ثقافتی اور کثیر مذہبی برطانیہ میں اسوقت یہودیوں کی تعداد تین لاکھ کے قریب ہے جن کا بڑا حصہ یعنی چودہ اعشاریہ آٹھ فیصدلندن میں بارنیٹ اور گولڈرز گرین کے علاقوں میں مقیم ہے۔ برطانیہ میںیہودیوں کی سب سے زیادہ آبادی گریٹر لندن میں رہتی ہے اور یہ تعداد کوئی دو لاکھ کے لگ بھگ ہے جبکہ لندن کے بعد سب سے زیادہ یہودی آبادی گریٹر مانچسٹر، لیورپول، لیڈز اور گلاسگو میں مقیم ہیں۔ برطانیہ میں 1066 سے قبل یہودیوں کی موجودگی کے کوئی شواہد نہیں ملتے تاہم تارکین وطن کی قومی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ 1066 کے اواخر میں فرانس کے فاتح ولیم شمالی فرانس اور نارمنڈی سے یہودیوں کو لیکر لندن سترھویں صدی کے آغاز تک یہودیوں کو برطانیہ میں کھُلے بندوں اپنے مذہب کے پرچار کی اجازت نہیں تھی اور خفیہ طور پر یہودیت کے پرچار کی پاداش میں 1609 میں برطانوی شاہ جیمز اول نے لندن میں مقیم پرتگالی یہودی تاجروں کو مُلک سے نکل جانے کا حُکم دیا دیا تھا۔ 1656 کے کرامویل عہد میں پہلی مرتبہ یہاں یہودیوں کو اپنے عبادت خانے سینیگاگ یعنی معبد بنانے کی اجازت ملی۔ روس اور مشرقی یورپ سے 1880 اور 1914 کے درمیان یہودی برطانیہ آ کر آباد ہوئے اور شروع میں آنے والوں کی اکثریت برسٹل،گلوسٹر، لندن، نورچ اور یارک شائرمیں آباد ہوئی۔
تارکینِ وطن کے ریکارڈ کے مطابق 1800 تک برطانیہ میں یہودیوں کی تعداد بیس اور پچیس ہزار کے درمیان تھی جو انیسویں صدی کے وسط تک پینتیس اور چالیس ہزار تک جا پہنچی اور پھر بیسویں صدی میں خاص طور پر عالمی جنگوں کے بعد اس تعداد میں مزید اضافہ ہوا۔ چونکہ یہودیوں کی سب سے زیادہ تعداد لندن میں ہے اسی لیے انکے عبادت خانے سینیگاگ بھی تعداد کے اعتبار سے لندن میں ہی زیادہ ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق برطانیہ بھر میں یہودیوں کے ایک سو پچاس سے زیادہ سینیگاگ ہیں جن میں سے یہودی فیڈریشن کے تیس، ریفام سینیگاگ پچاس، سیفاردی سینیگاگ بیس سے زائد اور مستوری سینیگاگ بیس کے قریب ہیں۔ تحقیق کے مطابق برطانیہ میں 1656 میں اولیں طور پر ایک گھر میں عبادت خانہ کھولنے کے اشارے ملتے ہیں تا ہم مستند طور پر یہودیوں کا پہلا سینیگاگ 1701 میں بشپ گیٹ لندن میں بنا تھا جسے بیوس مارکس سینیگاگ کہا جاتا ہے جس میں آج بھی بدستور عبادت ہوتی ہے۔ اسکی تعمیر 1699 میں شروع ہوئی تھی اور اُس زمانے میں اس پر تین ہزار پاؤنڈ لاگت آئی تھی۔ اس سینیگاگ کو زیادہ تر سپین اور پرتگال کے یہودی استعمال کرتے ہیں اور اس میں توریت کے نہایت قدیم نسخے بھی موجود ہیں۔ اسکی اندرونی آرائش اور نشستیں آج بھی کافی حد تک اپنی ابتدائی حالت میں موجود اور زیرِ استعمال ہیں۔ اس سینیگاگ میں دس ستون اسرائیل کے دس قبائل کی نشانی ہیں جبکہ دس شمع دان حضرت موسیٰ کی شریعت کے دس معروف قوانین کے غماز ہیں۔ 1831 اور 1833 کے درمیان لندن میں رمز گیٹ سینیگاگ بنایا گیا تھا جو اب فعال عبادت گاہ نہیں بلکہ یہودی ورثے کی محفوظ عمارت ہے۔ اسی طرح 1854میں یہودی عبادت گاہوں کی مرکزی کمیٹی نے لندن میں پورٹ لینڈ سٹریٹ میں سینیگاگ بنانے کے لیے ایک بڑا گودام چالیس سال کے پٹے پر لیا تھا۔ 1855 میں برانچ سینیگاگ کے نام سے اسکی تعمیر شروع ہوئی تھی اور تکمیل پر زیریں منزل میں 212 نشستیں اور گیلری میں 144 نشستیں تھیں۔ لیز یعنی پٹے کے خاتمے پر اس سینیگاگ کو نئے سرے سے بیس واٹر میں بنایا گیا۔ برطانیہ کی قدیم یہودی عبادت گاہوں میں 1856 میں تعمیر ہونےوالا برمنگھم کا سنگر ہِل سینیگاگ، 1937 کا برمنگھم کا ہی پروگریسو سینیگاگ، 1915 میں تعمیر ہونے والا لندن کا سٹیم فورڈ ہِل کا نیو سینیگاگ، 1929 کا شیفیلڈ کا ولسن روڈ سینیگاگ، 1928 کا سندرلینڈ کا رےہوپ روڈ کا سینیگاگ، 1872 کا لیورپول کا پرنس روڈ کا سینیگاگ،برائٹن کامڈل سٹریٹ سینیگاگ بھی شامل ہیں۔
برطانیہ میں رہنے والے یہودیوں کے قومی ورثے میں 1762 میں ڈیون میں تعمیر ہونے والا پلےمتھ سینیگاگ بھی شامل ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||