جی ایٹ کا سربراہ اجلاس آج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سخت ترین حفاظتی انتظامات میں دنیا کے آٹھ بڑے صنعتی ملکوں کے سربراہ آج بدھ کو سکاٹ لینڈ میں گلین ایگلز میں جمع ہو رہے ہیں جہاں وہ عالمی ماحول میں تبدیلی، افریقہ کی صورتِ حال پر اور دیگر امور پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ گلین ایگلز سے ہمارے نامہ نگار حسین عسکری نے بتایا ہے کہ برطانیہ میں اس نوعیت کے سکیورٹی انتظامات کی مثال حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ دس ہزار پولیس اہلکار موقع پر موجود ہوں گے جہاں جی ایٹ اجلاس کے خلاف ایک مظاہرے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ جی ایٹ ممالک کا سربراہ اجلاس افریقہ کے اٹھارہ غریب ترین ممالک کے قرضے معاف کرنے کی منظور دے گا جبکہ افریقی ممالک کی امداد دوگنا ہونے کا بھی امکان ہے۔ جی ایٹ عالمی سربراہی اجلاس سے قبل لیبیا کے شہر سرتے میں افریقی یونین کے سربراہی اجلاس نے مطالبہ کیا تھا کہ امیر ممالک کی طرف سےغریب ممالک کو دی جانے والی امداد کے ساتھ شرائط لگانا بند کی جائیں۔ اجلاس نے کچھ افریقی ممالک کے جزوی قرضے معاف کرنے کا خیر مقدم کیا لیکن اپیل کی کہ افریقی ممالک کے تمام قرض معاف کیے جائیں۔یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ افریقہ میں کسی بحران کی صورت میں افریقی یونین خود مداخلت کرے گی۔ امریکی صدر کے حالیہ انٹرویو کے تناظر میں مبصرین کہہ رہے ہیں کہ جی ایٹ سربراہ اجلاس کے ایجنڈے کے ایک دوسرے اہم موضوع یعنی عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے کوئی معاہدہ ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ امریکہ اس کی راہ میں حائل ہوگا۔ جس ہوٹل میں جی ایٹ سربراہ جمع ہوں گے اس تک مارچ کرنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین تیار ہیں۔ تاہم پولیس اور مظاہرین کی تنظیموں کے درمیان بات چیت کے بعد لگتا ہے کہ مظاہرے پر امن رہیں گے۔ تیس برس قبل جب سے امیر ممالک کا سربراہ کلب بنا ہے ایڈنبرا میں ان کی کانفرنس پر دنیا نے جس انداز سے نگاہیں جمائی ہوئی ہیں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ جی ایٹ سربراہ کانفرنس میں امریکہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، روس اور میزبان ملک برطانیہ کے سربراِہ حکومت کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان بھی شریک ہوں گے۔ ٹونی بلیئر اور فرانس کے صدر ژاک شیراک دونوں سنگا پور سے سکاٹ لینڈ پہنچیں گے۔ پولیس نےبدمذگی سے بچنے کے لئے بادلِ نخواستہ مظاہرے کے روٹ کو قبول کرلیا ہے۔سکاٹش پارلیمنٹ کی ایک سوشلسٹ رکن فرانسس کیرن نے اسے مظاہرہ کرنے والوں کی ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے گلی کوچے صدر بش نہیں بلکہ ہم خود کنٹرول کرتے ہیں اور ہم ان سربراہوں سے صرف پانچ سو گز کے فاصلے پر نعرہ زنی کریں گے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||