ریگن عظیم امریکی شخصیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکیوں نےسابق امریکی صدر رونلڈ ریگن کوعظیم ترین امریکی منتخب کیا ہے ۔ مسٹر ریگن دس اہم شخصیات کی فہرست میں سب سے آگے رہے جن میں چھ سابق امریکی صدور کے نام بھی شامل تھے۔ریگن گزشتہ برس 93 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ اس فہرست میں ابراھم لنکن کا بھی نام تھا جنہوں نے غلامی کا خاتمہ کیا تھا اور شہری حقوق کے علمبردار مارٹن لوتھر کنگ بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ امریکی تاریخ کی کچھ اہم شخصیات مثلاً البرٹ آئنسٹائین اور چاند پر جانے والےنیل آرمسٹرانگ بھی ان دس عظیم شخصیات کی فہرست میں شامل نہیں ہو سکے۔ ٹاک شو کرنے والی اوپرا ونفری کو امریکہ کی عظیم ترین خاتون کے طور پر سب سے زیادہ ووٹ ملے اور وہ نویں نمبر پر رہیں۔ امریکہ کے پہلے صدرجارج واشنگٹن جنہیں بابائے قوم سمجھا جاتا ہے وہ بھی چوتھے نمبر پر رہے۔ موجودہ امریکی صدر جارج بش اور سابق صدر بل کلنٹن جن کے مونیکا لیونسکی کے ساتھ عشق کے قصوں نے ان کی شبیہ کو بگاڑ دیا تھا دس اہم امریکیوں کی فہرست میں شامل رہے۔ جارج بش چھٹے اور بل کلنٹن ساتویں نمبر پرتھے۔ ڈسکوری چینل اور اے او ایل کی جانب سے کرائی جانے والی اس ووٹنگ میں 24 لاکھ امریکیوں نےفون ، ٹیکسٹ اور ای میل کے ذریعے ووٹ دئیے۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ مسٹر ریگن کی موت کے بعد ان کی شبیہ بہتر ہوئی ہے ۔ 1981 سے 1989 میں ان کےدورِ صدارت کا دور اقتصادی خشحالی ، سابق سوویت یونین کے بکھرنے اور امریکیوں میں فخر کے احساس کی بحالی کا دور سمجھا جاتا ہے۔ برطانیہ میں 2002 میں اسی طرح کی ایک ووٹنگ میں سابق وزیر اعظم ونسٹن چرچل کو عظیم برطانوی منتخب کیا گیا تھا۔ فرانس میں اپریل 2005 میں ایسی ہی ووٹنگ میں سابق صدر چارلس ڈی گوؤلے سر فہرست رہے تھے جبکہ جرمنی میں 2003 میں سابق چانسلر کونارڈ ایڈینیور دس عظیم شخصیات کی فہرست میں اول نمبر پر رہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||