مذاکرات سے پہلے درجنوں فلسطینی گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کی سکیورٹی افواج نے غرب اردن سے درجنوں فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ یہ گرفتاریاں اسرائیلی وزیر اعظم ایرئیل شیرون اور فلسطینی صدر محمود عباس کی ملاقات سے پہلے کی گئی ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ذرائع کے مطابق عسکریت پسند تنظیم اسلامی جہاد کے پچاس کے قریب کارکنوں کو رات گرفتار کر لیا گیا تھا۔ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر اور منگل کی درمیانی رات چودہ افراد کو رملہ، قلقلیہ اور جنین سے گرفتار کیا گیا جبکہ چھتیس کو ہیبرون اور بیت اللحم سے حراست میں لیا گیا۔ اسرائیلی فوج کے ایک سینئیر اہلکار کرنل ایریز وینر نے کہا ہے کہ اب اسلامی جہاد کے خلاف کوئی نرمی برتی نہیں جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اس تنظیم کے ساتھ جو بھی منسلک ہوگا اس کو اسرائیلی فوج نشانہ بنائے گی۔ یہ چھ ماہ میں کے اندر اسلامی جہاد پر اس پیمانے پر ہونے والی پہلی ایسی کارروائی ہے اور یہ اسرائیلی نشانوں پر کئی حملوں کے کچھ روز بعد آئی ہے۔ حملوں میں دو اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اسلامی جہاد نے چھ ماہ قبل طے ہونے والے امن معاہدے پر عمل نہیں کیا ہے اور یہ گرفتاریاں اس حالیہ تشدد کے جواب میں کی گئی ہیں ۔ تاہم اسلامی جہاد کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیاں امن معاہدے کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔ اسلامی جہاد کے ایک ترجمان نے فلسطینی قیادت سے کہا ہے کہ ان کو بیت المقدس میں اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کو منسوخ کر دینا چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||