کابل: امریکیوں کی سزا میں کمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کابل میں ایک افغانی عدالت نے ان تین امریکیوں کی سزا میں تخفیف کر دی ہے جنہیں افغانستان میں نجی جیل چلانے اور افغانیوں پر تشدد کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم عدالت نےمجرمان کی جانب سے سزا کالعدم قرار دینے کی درخواست مسترد کر دی۔ جوناتھن اڈیما، ایڈورڈ کیرابالو اور برینٹ بینٹ کوگزشتہ ستمبر میں مقدمے کی سماعت کے بعد سزا سنائی گئی تھی۔ بی بی سی کے نمائندے کے مطابق یہ مقدمہ بہت سی وجوہات کے سبب انتشار کا شکار رہا تھا جبکہ وکلائے صفائی کا کہنا تھا کہ افغانستان کا نظام ان افراد پر مقدمہ چلانے کے لیے موزوں نہیں ہے۔ جوناتھن اڈیما اور برینٹ بینٹ کی سزاؤں کو دس برس سے کم کر کے بالترتیب پانچ اور تین سال کر دیا گیا ہے جبکہ ایڈورڈ کیرابالو کو ملنے والی آٹھ برس قید کی سزا دو برس قید میں بدل دی گئی ہے۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ ان سزاؤں میں کمی کیوں کی گئی ہے۔ ان تین افراد کو جولائی 2004 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب افغان فوج نے کابل کے نواح میں چھاپہ مار کر آٹھ قیدی افغانیوں کو بازیاب کیا تھا۔ جوناتھن اڈیما نے کہا تھا کہ انہیں امریکی حکام اور افغان حکومت کی آشیرباد حاصل تھی۔ امریکہ نے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے ان افراد کو’باؤنٹی ہنٹر‘ قرار دیا تھا۔ اڈیما کا کہنا تھا کہ ان کا گروہ امریکی حکام کے لیے مشتبہ دہشت گردوں کی تلاش میں سرگرم تھا جبکہ امریکی محکمۂ دفاع نے ان افراد سے کسی قسم کے تعلق سے انکار کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||