امریکی’شکاریوں‘ کی اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کابل میں پرائیویٹ جیل چلانے اور افغانوں کو اذیت پہنچانے کے جرم میں جن تین امریکی شہریوں کو دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، ان کی اپیل کی سماعت شروع ہوگئی ہے۔ جوناتھن ادیما، برینٹ بینٹ اور ایڈورڈ کارابالو کی اپیل کی سماعت ان کے ساتھ شریک جرم چار افغان باشندوں کے ساتھ ایسی عدالت میں ہوئی جہاں عام لوگوں کو آنے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن جونہی جوناتھن جج کے کمرے میں داخل ہوئے اور انہوں نے اخبار والوں کو دیکھا تو وہ چلانے لگے کہ اخبار والے جھوٹے ہیں۔ امریکہ نے جوناتھن کو ایک ایسے شکاری سے تعبیر کیا ہے جو مجرموں کو پکڑنے یا ہلاک کرنے کے بعد حکومتِ وقت سے انعام کا طلبگار ہو۔ تاہم جوناتھن کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ کام افغان اور امریکی حکام کی منظوری سے کیا۔ اس اپیل کی سماعت کے دوران امریکی وکلاء موجود نہیں تھے۔ جوناتھن نے اس کی یہ توجیہہ پیش کی کہ امریکی سفارت خانے نے وکلاء سے کہہ دیا تھا کہ وہ نہ آئیں کیونکہ ’خطرہ بہت زیادہ ہے۔‘ اپیل کی سماعت کرنے والے تین ججوں میں سے ایک جج عبدالطیف نے کہا کہ جب تک وکیلِ صفائی موجود نہ ہوں، عدالتی کارروائی مکمل نہیں ہو سکتی۔ جوناتھن نے اخبار نویسوں کو دیکھ کر کہا ’اخبار والے جھوٹے ہیں۔ تم میں سے کوئی بھی سچ نہیں کہتا۔‘ جوناتھن سمیت دو دیگر امریکیوں کو جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان تینوں کی گرفتاری اس وقت ہوئی جب افغان سکیورٹی فوج نے کابل میں ایک گھر پر چھاپہ مارا جسے پرائیویٹ جیل کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا اور جہاں آٹھ افغان قید تھے۔ جوناتھن کا کہنا تھا کہ افغان اور امریکی حکومت کی اجازت سے وہ دہشت گردی میں ملوث افراد کی تلاش میں تھے۔ پینٹاگون نے اس الزام سے انکار کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||