BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آشوِز کی آزادی کی تقریب
یہاں دس لاکھ یہودی ہلاک کردیے گئے
یہاں دس لاکھ یہودی ہلاک کردیے گئے
جنوبی پولینڈ کے شہر آشوِز میں ہِٹلر کی فوج کے ہاتھوں یہودیوں کی نسل کشی کے کیمپ سے بچ جانے والے افراد اور عالمی رہنماؤں نے ایک یادگاری تقریب میں شرکت کی ہے۔

تقریب کا آغاز اس ریلوے لائن پر ایک سیٹی بجانے سے کیا گیا جس پر ریل گاڑیوں میں لاد کر دس لاکھ سے زیادہ افراد کو کیمپ میں لایا گیا تھا۔

انیس سو چالیس سے ستائیس جنوری انیس سو پینتالیس کے درمیان ایک ملین سے زائد افراد یہاں ہلاک کردیے گئے تھے۔ یہ تقریب اس کیمپ کو جرمن فوجیوں سے چھڑانے کی ساٹھ سالہ برسی کے موقع پر منعقد کی گئی ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں بیشتر مرکزی یورپ کے یہودی تھے جنہیں ہم جنس پرستوں اور پولینڈ اور روسی کے قیدیوں کے ساتھ ٹرکوں میں بھر کر آشوِز لایا گیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق کل گیارہ لاکھ افراد ہلاک کیے گئے تھے جن میں دس لاکھ یہودی تھے۔

آشوِز میں منعقد کی جانے والی تقریب میں فرانسیسی صدر ژاک شیراک، امریکی نائب صدر ڈِک چینی، برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا، روسی صدر ولادمیر پوتن، پولینڈ کے صدر الیگزینڈر کوازنیوسکی اور اسرائیل کے صدر موشے کاتساؤ نے شرکت کی۔

گیس کے ڈبے
ذائکلون گیس کے خالی ڈبے جس سے قیدیوں کو مارا جاتا تھا

اسرائیل کے صدر موشے کاتساؤ نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ ہم ابھی بھی مرنے والوں کی چیخیں سن سکتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں جب کیمپ کی زمین پر چل رہا تھا تو مجھے لگ رہا تھا کہ میں مرنے والوں کی راکھ پر چل رہا ہوں‘۔

تقریب کے دوران بہت تیز برف باری ہوئی اور کئی معمر افراد کمبل اوڑھے بیٹھے ہوئے تھے۔

پولینڈ کے صدر الیگزینڈر کوازنیوسکی اور روس کے صدر ولادمیر پوتن نے مجمع سے خطاب کیا جب کہ جرمنی کے صدر ہارسٹ کوہلر تقریب کے دوران خاموش رہے۔

جمعرات کے روز جرمنی کی پارلیمان میں بھی اس موقع پر ایک تقریب منعقد کی جارہی ہے۔ اس موقع پر آشوِز کے کیمپ سے بچنے والے ایک یہودی آرنو لوسٹیگر نے پارلیمان سے خطاب کیا اور جرمنی کے شاعر اور گلوکار بیئرمین نے ایک شخص کی نظمیں پڑھیں جو آشوِز میں مارا گیا تھا۔

روسی فوج کے ایک افسر، اناتولی شپیرو، نے جن کی عمر اب بانوے سال ہے اور جو اس کیمپ سے بچ نکلے تھے، بی بی سی کو خوفناک حالات کے بارے میں بتایا: ’دروازے کے اندر ہم نے ایک کے اوپر ایک ننگی عورتوں کی لاشیں دیکھیں۔ چاروں طرف خون ہی خون تھا۔ بدبو اتنی تھی کہ آپ پانچ منٹ بھی وہاں نہیں رک سکتے تھے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد