’ہاں، مزاحمت اثر دکھا رہی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جارج بش نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ عراق میں جاری مزاحمت اپنا اثر دکھا رہی ہے اور عراقی فوج اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر بش نے خبردار کیا کہ اگلے ماہ عراق میں ہونے والے انتخابات میں مشکلیں پیش آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں کار بموں کے دھماکے پروپگنڈے کا بہت مؤثر حربہ بن گۓ ہیں۔ انہوں نے کہا جب عراقی پولیس اور فوج کے سر پر آن پڑی تو ان میں سے کچھ میدان چھوڑ گۓ اور یہ بات قابل قبول نہیں ہے۔ تاہم صدر بش نے اس بات پر اصرار کیا کہ عراق جمہوریت کے سفر پر گامزن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق میں وہ جمہوریت آئے گی جو عراقی عوام کی اقدار اور روایات کی عکاسی کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عراقیوں کے لیے صدام حکومت کی نسبت اب زندگی بہتر ہے۔ گزشہ روز عراق کے دو مقدس شہروں نجف اور کربلا میں کار بم دھماکوں میں 60 افراد ہلاک اور ایک سو بیس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ جنوری تیس کے انتخابات سے قبل امریکہ عراق میں اپنے فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ پچاس ہزار تک کر رہا ہے۔ یہ تعداد ان امریکی فوجیوں سے زیادہ ہوگی جو عراق پر حملے میں شریک تھے۔ صدر بش نے کہا کہ اگلے ماہ عراق میں ہونے والے انتخابات ایک عمل کی ابتدا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراق کی سکیورٹی فوج میں لوگ کافی زیاہ تعداد میں شامل ہو رہے ہیں تاہم کمانڈ کے لحاظ سے صورتِ حال نسبتاً کمزور ہے۔ انہوں نے کہ کچھ عراقی یونٹس نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جن کا اندازہ اس سال فلوجہ کی لڑائی سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ تاہم دوسرے عراقی یونٹس کے بارے میں صدر بش کا کہنا تھا ’جب لوہا گرم ہوا تو وہ لوگ میدان سے چلے گئے۔‘ عراقی عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ فلوجہ شہر کے تین لاکھ کے قریب باشندے جو امریکی حملے کے دوران شہر چھوڑ کر چلے گۓ تھے جمعرات کو اپنے گھر واپس آنا شروع ہو جائیں گے۔ ہر گھرانے کو سو ڈالر ادا کۓ جائیں گے اور ان کی املاک کا نقصان پورا کرنے کے لۓ دس ہزار ڈالر بھی دیئے جائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||