BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کربلا میں بم دھماکہ، سات ہلاک
کربلا میں پہلے بھی تشدد کے واقعات ہوئے ہیں
کربلا میں پہلے بھی تشدد کے واقعات ہوئے ہیں
عراق کے مقدس شہر کربلا میں بم کا دھماکہ ہوا ہے جس میں کم سے کم سات افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ دھماکہ امام حسین کے روضے کے دروازے کے قریب اس وقت ہوا جب لوگ نمازِ مغرب کی ادائیگی کے لیے جمع ہورہے تھے۔

کئی ماہ کے بعد شہر میں یہ پہلا سنگین حملہ ہے۔

زخمی ہونے والوں میں معروف شیعہ رہنما آیت اللہ علی سستانی کے مقامی نمائندے عبدالمہدی الکربلائی شامل ہیں جبکہ ان کے کئی باڈی گارڈز دھماکے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

آیت اللہ سیستانی کے ایک ترجمان نے الجزیرہ ٹیلی ویژن کو بتایا ہے کہ یہ حملہ ان کے رہنما کو ہلاک کرنے کی ایک سازش تھی۔

سرکاری بیان کے مطابق یہ دھماکہ ایسے عناصر کی کارستانی ہے جو شیعہ سنی تفریق پیدا کرکے آئندہ ماہ کے انتخابات کو درہم برہم کرنا چاہتے ہیں۔

عراق کی عبوری حکومت نے تیس جنوری کو انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے انتخابی مہم آج ہی شروع ہوئی ہے۔

سرکاری انتخابی مہم شروع ہونے کے پہلے روز وزیر اعظم ایاد علاوی نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھی انتخابات میں حصہ لیں گے۔

انتخابات کے لیے کوئی دو سو سیاسی جماعتوں پر مشتمل اسّی اتحاد اس الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اور سنی دھڑوں نے بھی ابتدائی پس و پیش کے بعد بڑی تعداد میں اندراج کرایا ہے۔

تاہم کئی سنی جماعتوں نے انتخابات بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عراق میں جاری کشیدی اور عدم سکیورٹی کے حالات کی وجہ سے انتخابات کے لیے حالات معقول نہیں ہیں۔

دریں اثناء عراق کے عبوری وزیراعظم ایاد علاوی نے کہا ہے کہ جنوری کے انتخابات میں وہ بھی امیدوار ہوں گے۔

ان انتخابات کے نتیجے میں دو سو پچھہتر ارکان پر مشتمل آئین ساز اسمبلی وجود میں آئے گی جو آئین سازی کے علاوہ نئی حکومت کی تشکیل کا کام بھی کرے گی۔

ایک اعلٰی امریکی اہلکار نے تسلیم کیا ہے کہ عراق میں مزاحمت کاروں کی کارروائیوں میں واضح اضافہ ہوا ہے۔

امریکی فضائیہ کے لیفٹیننٹ جنرل لانس سمتھ نے کہا ہے کہ مسلح حملوں کے باعث امریکی سپلائی لائنز میں رکاوٹ آرہی ہے جس سے ان کے بقول تعمیر نو کے کاموں میں بھی فرق پڑ رہا ہے۔

اس سے قبل کربلا میں مارچ میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 85 افراد لوگ ہلاک اور 230 زخمی ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد