بس کا اغوا، چودہ مسافر یرغمال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یونان کے شہر ایتھنز میں دو مسلح افراد نے گن پوائنٹ پر ایک بس کو اغوا کرلیا جس پر چھبیس افراد سوار تھے۔ ان افراد میں سے چند کو چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ چودہ ابھی بھی اغوا کاروں کے قبضے میں ہیں۔ اس صورتحال کے باعث یونان کے وزیر اعظم نے یورپی یونین کے رہنماؤں کے ساتھ ایک اجلاس میں اپنی شمولیت موخر کردی ہے۔ اغوا شدہ بس شہر کی ایک مرکزی سڑک پر ایک نائٹ کلب کے پاس کھڑی ہے جس کا مسلح پولیس نے محاصرہ کرلیا ہے۔ ہائی جیکرز نے ایک ملین یورو اور ایک طیارے کا مطالبہ کیا ہے جس کے ذریعے وہ روس جانا چاہتے ہیں۔ موقع پر موجود بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یونانی حکام ہائی جیکرز کا کوئی مطالبہ تسلیم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ مسافروں کی یہ بس جی ایم ٹی کے مطابق چار بجے صبح اس وقت اغوا کرلی گئی جب یہ میراتھون سے مرکزی ایتھنز جارہی تھی۔ بس ڈرائیور فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ لگ بھگ پانچ گھنٹے بعد اغوکاروں نے ایک عمررسیدہ شخص کو رہا کردیا جس کے بعد دیگر کئی افراد کو بھی چھوڑ دیا گیا ہے۔ صبح جب پولیس نے بس کا محاصرہ کرنے کی کوشش کی تو اغواکاروں نے بس کی کھڑکیوں کے پردے بند کردیے اور فائرنگ کرنی شروع کردی لیکن کسی بھی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ ایک اغواکار نے موبائل فون سے ایک مقامی ٹیلی ویژن کو فون کرکے بتایا کہ وہ روسی ہے اور اسے روس جانے کے لیے ایک طیارے کی ضرورت ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ دونوں اغواکار روسی ہیں۔ خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایتھنز میں موجود البانوی اور روسی سفارتکاروں کی مدد لی جارہی ہے تاکہ اغواکاروں کی قومیت کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسے۔ فرار ہونے والے ڈرائیور نے بتایا کہ اغواکاروں کے پاس شاٹ گن اور شکار کرنے والے رائفل ہیں اور انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس دھماکہ خیز مواد بھی ہے۔ اغواکاروں نے مطالبہ کیا ہے انہیں ایک ڈرائیور فراہم کیا جائے تاکہ وہ بس کو ایتھنز کے ہوائی اڈے تک لے جاسکیں۔ یونان کے حکام نے بتایا کہ ایک اغواکار روسی لگتا ہے لیکن اس نے مذاکرات کاروں اور مسافروں سے یونانی زبان میں بات کی۔ اغواکار نے کہا: ’انہیں بتاؤ کہ یہاں سے پولیس کو ہٹائیں۔ ہم ہوائی اڈے تک جانا چاہتے ہیں۔ تمام مسافروں کو وہاں رہا کردیا جائے گا۔‘ پانچ سال قبل بھی اس نوعیت کے دو واقعے ہوئے تھے جن میں البانوی بندوق برداروں نے بسوں کو اغوا کیا تھا۔ دونوں مرتبہ پولیس نے حملہ آوروں کو ہلاک کردیا تھا اور ایک واقعے میں ایک مسافر بھی مارا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||