BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 November, 2004, 15:55 GMT 20:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لمبی قطاریں، بڑے پیمانے پر ووٹنگ

انتخابات
ووٹروں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئی ہیں
صدر جارج بش اور سینیٹر کیری کے درمیان امریکہ کی سیاسی تاریخ میں صدارت کے لیے ہونے والے شدید ترین انتخابی معرکے میں ووٹنگ کا آغاز ہو گیا ہے اور امریکہ کی مختلف ریاستوں سے ووٹنگ سٹیشنوں کے باہر لوگوں کی لمبی لمبی قطاروں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

اس انتخابی معرکے میں دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صدر بش نے ٹیکساس میں اپنا ووٹ ڈالتے ہیں اپنی مہم کا دوبارہ آغاز کر دیا۔


ووٹ ڈالتے ہی وہ ریاست اوہایو چلے گئے جہاں پردونوں امیدواروں کے ووٹروں کی تعداد میں بہت کم فرق پایا جاتا ہے اور یہاں پر پڑنے والے ووٹ فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

جارج بش نے رپبلکن پارٹی کے کارکنوں پر زور دے کر کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کے ان کے تمام جاننے والوں ووٹ ڈالنے جائیں۔

جان کیری نے ریاست وسکونس میں اپنی مہم جاری رکھی۔ وسکونس میں بھی دونوں امیدواروں میں بہت کم فرق ہے۔ جان کیری نے ووٹروں سے کہا کہ یہ وقت بش کے احتساب کا ہے جب ان سے امریکہ کے اقتصادی مسائل اور
بین الاقوومی طور پر درپیش مسائل کا جواب طلب کیا جا سکتا ہے۔

کے بارے میں آخری لمحات پر جاری کئے جانے والے عوامی جائزوں کے مطابق رپبلکن امیدوار صدر جارج بش اور ڈیموکریٹک پارٹی کے صدراتی امیدوار سینیٹر جان کیری کے درمیان انتہائی کڑا مقابلہ ہے۔

مبصرین کے مطابق ان انتخابات میں بہت بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے جانے کی توقع ہے۔ ان اندازوں کے مطابق ان انتخابات میں اتنے ووٹ پڑنے کی امید ہے کہ جتنے گزشتہ چالیس برسوں میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں نہیں ڈالے گئے۔

News image
ووٹر الصبح ہی پولنگ سٹیشنوں پر جمع ہونا شروع ہو گئے تھے

شمال مشرق میں کئی ریاستوں میں موسم شدید خراب ہونے کی وجہ سے ووٹنگ کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے لیکن باقی تمام ملک میں حالات معمول کے مطابق ہیں۔

فیصلہ کن ریاستوں میں سے ایک ریاست اوہائیو میں پولنگ سٹیشنوں میں امیدواروں کے نمائندوں کی موجودگی پر جو تنازعہ پچھلے کئی روز سے چل رہا تھا اس پر منگل کی صبح ریاست کی عدالت نے رپبلکن پارٹی کی حمایت میں فیصلہ سناتے ہوئے یہ کہا کہ یہ نمائندے وہاں موجود رہ سکتے ہیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی کا کہنا تھا کہ اس طرح کی موجودگی کی الیکشن قوانین میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

ڈیموکریٹ امیدوار جان کیری منگل کی دوپہر بوسٹن پہنچ رہے ہیں جہاں وہ اپنے گھر کے قریب ایک ریستوران میں اپنی لکی ڈش کھائیں گے۔ اپنے پورے سیاسی کیرئیر میں انہوں نے ہر الیکشن میں اپنی مہم کے اختتام پر یہیں کھانا کھایا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی حمایت میں شہر کے وسط میں واقع کوپلی سکوائر پر ایک بڑی ریلی کا انتظام کیا جارہا ہے جہاں منگل کی رات وہ اپنے نائب جان ایڈورڈز کے ساتھ خطاب کریں گے۔

جان کیری کی اس ریلی میں جسے ان کی ممکنہ فتح کی ریلی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، مشہور گلوکار بروس سپرنگسٹین بھی شرکت کریں گے۔

صدر جارج بش نے منگل کی صبح اپنی آبائی ریاست ٹیکساس میں ووٹ ڈالا۔

News image
بعض ریاستیں فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہیں

ان انتخابات میں دونوں امیدوارں کے درمیان اتنے شدید مقابلے کے باعث ان خدشات کی اظہار کیا جارہا ہے کہ کہیں سن دو ہزار میں ہونے والے انتخابات کے بعد رونما ہونے والی صورت حال دوبارہ پیدا نہ ہو جائے۔ سن دو ہزار میں انتخابات کےبعد نتائج پر تنازع پیدا ہو گیا تھا اور معاملہ اعلی عدالتوں تک جا پہنچا تھا۔

دونوں جماعتوں کے ہزاروں وکلاء اور عالمی مبصرین امریکی ریاست فلوریڈا پہنچ چکے ہیں جہاں سے ہزاروں بیلٹ پیپر گم ہونے اور ووٹ ڈالنے کے لیے استعمال کی جانے والے مشکل ٹیکنالوجی اور ووٹوں کو حراساں کیے جانے کی اطلاعات تھیں۔

تاہم جارج بش اور جان کیری نےان خدشات کو رد کر دیا ہے کہ انتخابی تنازع کی صورت میں کوئی لمبی قانونی جنگ ممکن ہے۔

امریکہ کے مشرقی ساحل پر واقع نیو ہیمشر میں پہلے ووٹنگ کا آغاز ہوا اور یہیں ووٹوں کی گنتی بھی سب سے پہلے شروع ہو گی۔ یہاں پر کئے گئے ایک ابتدائی سروے کے مطابق صدر جارج بش کو معمولی سی اکثریت حاصل تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد