انتخابی مہم آخری مرحلےمیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں دو نومبر کی ووٹنگ کے لئے صدر جارج بش اور ان کے ڈیموکریٹک چیلنجر سینیٹر جان کیری کی انتخابی مہم اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ صدارتی عہدے کے دونوں امیدوار ان فیصلہ کن ریاستوں میں اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جہاں ووٹروں کی ایک تعداد نے اب تک فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ کس کو ووٹ دیں گے۔ دریں اثناء ووٹنگ سے تین دن قبل ہی انتخابی مہم نے اس وقت ایک نیا رخ لے لیا جب عربی ٹیلی ویژن الجزیرہ نے جمعہ کے روز اسامہ بن لادن کا ایک نیا وڈیو ٹیپ نشر کیا۔ صدر جارج بش اور سینیٹرجان کیری جمعہ کو فلوریڈا، اوہائیو اور نیو ہمپشائر میں اپنی انتخابی مہم جاری رکھے ہوئےتھے۔ سنیچر کےروز دونوں امیدوار چھ اہم ریاستوں میں سات سات ریلیوں میں حصہ لیں گے۔ ریاست کیلیفورنیا کے گورنر اور سابق ہالی وُڈ اداکار آرنلڈ شوارزنیگر نے جمعہ کو جارج بش کے ساتھ ایک ریلی میں ان کی حمایت کا اعلان کیا۔ جارج بش کے برعکس شوارزنیگر کو اعتدال پسند تصور کیا جاتا ہے۔
شوارزنیگر کا تعلق بھی جارج بش کی جماعت ریپبلیکن پارٹی سے ہے۔ سابق اداکار نے ریلی کے شرکاء سے کہا: ’میں یہاں آپ کو جوش دلانے کے لئے آیا ہوں کہ آپ صدر بش کو پھر سے منتخب کریں۔‘ دوسری جانب راک سٹار بروس سپرنگسٹین جمعرات کو سینیٹر جان کیری کے ساتھ ایک انتخابی ریلی میں شامل ہوئے اور ان کی حمایت کا اعلان کیا۔ وہ انتخابی مہم کے آخری دن یعنی پیر کو پھر جان کیری کی ریلی میں شریک ہوں گے۔ رائے شماری کے بیشترجائزوں سے لگتا ہے کہ قومی سطح پر دونوں امیدواروں میں کانٹے کی ٹکر ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی ایک رائے شماری کے مطابق دونوں کو سینتالیس۔سینتالیس فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||