رپورٹ سے عراق جنگ پر بحث تلخ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ایک سرکاری رپورٹ کے اس انکشاف سے کہ عراق پر حملے کے بعد وہاں سے وسیع تر تباہی کے ہتھیار نہیں ملے، عراق پر مسلط کی جانے والی جنگ کے جواز پر بحث مزید تلخ ہو گئی ہے۔ عراق سروے گروپ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ معزول صدر صدام حسین ہتھیاروں کا منصوبہ دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سابق عراقی صدر یقیناً ایک خطرہ تھے۔ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ اس کے باوجود کہ وہ تسلیم کر چکے ہیں کہ عراق پر حملے کے وقت وہاں وسیع تر تباہی کے ہتھیار موجود نہیں تھے، حالیہ رپورٹ سے واضح ہوتا ہے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور پابندیوں پر عمل درآمد نہیں ہو رہا تھا۔ آسٹریلوی وزیراعظم جان ہاورڈ کا کہنا ہے کہ حالیہ رپورٹ منظر عام پر آنے سے کچھ نہیں بدلا اور نہ ہی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کسی بھی طرح جنگ میں ملوث ہونے پر معافی طلب کرنے کی ضرورت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||