نیپال: گمشدگیوں پر تشویش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں نے نیپال میں ہر سال سینکڑوں افراد کے گم ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس تشویش کا اظہار گمشدہ افراد کے عالمی دن کے موقع پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کیا گیا ہے۔ لندن میں قائم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ اس کو اطلاعات ملی ہیں کہ گزشتہ سال میں نیپال میں تین سو اٹھہتر افراد گم ہوئے۔ یہ تعداد گزشتہ پانچ سالوں میں گم ہونے والے افراد کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ نیپال میں انیس سو چھیانوے سے حکومت اور ماؤ باغیوں کے درمیان خانہ جنگی جاری ہے۔ایمنسٹی نے گمشدگی کے واقعات میں تفتیش میں حکومتی اداروں کی طرف سے رکاوٹیں ڈالنے کی مذمت کی اور کہا کہ نہ صرف ماؤ باغی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں غائب ہوتے ہیں بلکہ بے شمار ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں باغی قتل، اغواء اور تشدد کی کارروائیوں میں ملوث کام آئے ہیں۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ انیس سو اٹھانوے کے بعد سے کل چھ سو بائیس افراد گم ہوئے ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کے قومی ادارے نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ تعداد ایک ہزار چار سو تیس ہے۔ نیپال کے وزیراعظم نے کچھ عرصہ قبل سیکیورٹی فورسز کو ہدایات دی ہیں کہ وہ انسانی حقوق کی پاسداری کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||