چیچنیامیں نئے صدر کے لیے انتخابات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر احمد قادروف کی ہلاکت کے بعد چیچنیا کے عوام ایک بار پھر نیا صدر منتخب کرنے کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔ صدر احمد قادروف کو ایک بم حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ صدارتی انتخابات میں علوالخانوف کو مقبول ترین امیدوار بتایا جاتا ہے کہ کیونکہ انہیں روسی حمایت حاصل ہے۔ علوالخانوف کے اہم حریف پابندی کے باعث انتخاب میں ان کے خلاف حصہ نہیں لے رہے۔ ماسکو کو امید ہے کہ ان صدارتی انتخابات کے نتیجے میں چیچنیا میں جاری تشدد کو روکنے میں مدد ملے گی تاہم چیچن حکومت کو غیر قانونی تصور کرنے والے باغیوں نے اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ درین اثنا چیچن حکام نے اعلان کیا ہے کہ ایک شخص اس وقت ہلاک ہو گیا جب وہ دھماکہ خیز مادہ لے کر ایک پولنگ اسٹیشن میں داخل ہو رہا تھا۔
ماسکو اس سے پہلے اس خدشے کا اظہار کر چکا ہے کہ حال ہی میں اس کے یکے بعد دیگرے جو دو طیارے تباہ ہوئے ہیں ان کی تباہی میں بھی چیچن خود کش باغیوں ہی کا ہاتھ تھا۔ الیکشن کے لیے حفاظتی انتظامات سخت کیے گئے ہیں۔ پولنگ سٹیشنوں پر روسی پولیس کا سخت پہرہ ہے جبکہ تمام اہم شاہراہوں پر ٹرکوں کے آنے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ روسی حکومت کے خلاف خود کش حملوں کے لئے چیچنیائی باغی اکثر ٹرکوں کا استعمال کر تے رہے ہیں۔ دوسری جانب نہ صرف روس میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انسانی حقوق کے لئے سرگرم کارکنوں نے اس الیکشن کو مسترد کر دیا ہے ۔ ان کے خیال میں روسی حکومت اس کے نتائج کو اپنے حق میں کرنے کے لیے دھاندلی کر رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||