لاؤڈ سپیکر پر اذان پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے ایک علاقے بلیک برن میں لوکل کونسل نے بیس سال پرانی وہ پابندی ختم سے انکار کردیا ہے جس کے تحت علاقے کی مسجد لاؤڈ سپیکر پر اذان نہیں دے سکتی۔ بلیک برن کی کونسل کے ارکان کا استدلال ہے کہ علاقے میں رہنے والے دوسرے مذاہب کے لوگوں کے احترام میں ایسا کرنا مناسب نہیں اور اگر علاقے کے چرچ کی طرف سے دن میں پانچ مرتبہ گھنٹیاں بجانے کے درخواست آئی تو اسُے بھی مسترد کردیا جائے گا۔ بلیک برن کے علاقے میں تقریبًا تیس ہزار مسلمان رہتے ہیں اور ان کے ایک کونسلر سلیم مُلا نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے سے بہت مایوس ہوئے ہیں۔ ایک دوسری پیش رفت میں برطانیہ کے ہی ایک اور شہر بِرسٹل میں ایک پاکستانی طالبعلم نسلی تشدد کے ایک واقعے میں شدید زخمی ہوگیا ہے۔ یہ حملہ برسٹل کے ایک پب میں اس وقت ہوا جب یہ طالبعلم وہاں دوستوں کے ساتھ پول کھیل رہا تھا اور شراب پی رہا تھا۔ حملے میں اس طالبعلم پر ایک نامعلوم شخص نے تین گلاس پھینکے جس سے اس کے گردن میں شدید زخم آیا جبکہ منہ اور سر پر بھی شدید چوٹیں آئیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||