’خیمہ بستیوں کی تعمیر بند کرو‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے وعدے کا پاس کرتے ہوئے غربِ اردن میں یہودی خیمہ بستیوں کی تعمیر کا کام بند کرے ۔ امریکہ کی طرف سے یہ بات اُس اسرائیلی منصوبے پر ردِ عمل کے طور پر کی گئی ہے جس کے تحت اسرائیل نے غربِ اردن میں چھ سو کے قریب نئی یہودی بستیاں تعمیر کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اس منصوبے کو حکومت کی منظوری مل چکی ہے اور اس سے فلسطینی علاقوں میں پہلے سے موجود یہودی بستیوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ جب امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ اسرائیل فیصلے سے امریکہ کو مایوسی ہوئی ہے تو ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو امریکی موقف کا علم ہے اور اس مسئلے پر دونوں ملکوں میں مزید بات چیت ہوگی۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کا منصوبہ وسطی کے اس روڈ میپ سے متصادم ہے جسے عالمی حمایت حاصل ہے۔ اس منصوبے کے تحت اسرائیل تمام یہودی بستیوں کی تعمیر روک دے گا۔ اس پہلے موصول ہونے والی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم ایرئیل شیرون نے فلسطینی علاقوں پرسب سے بڑی یہودی آبادکاری کی اجازت دے دی ہے۔ اسرائیلی وزارت دفاع کے اعلان کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم ایرئیل شیرون نے فلسطینی علاقوں پر مزید چھ سو عمارتیں بنانے کی اجازت دے دی ہے۔ نئی یہودی بستی غرب اردن کے قصبے مالے ادومم کے قریب ہے ۔ یہ علاقہ یروشلم کے بلکل نزدیک ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||