صدر بش کی ایڈز پالیسی پر بحث | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں ایڈز پر ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے پہلے روز امریکہ کی ایڈز سے متعلق پالیسی زیر بحث رہے گی۔ بحث میں صدر جارج بش کے اس موقف پر بھی گفتگو ہو گی کہ جنسی احتراز کے ذریعے ایڈز سے بچاؤ ممکن ہے۔ متعدد سائنسدانوں اور سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایڈز پر قابو پانے کے لیے صدر بش کے موقف کی بجائے دیگر طریق کار اپنانے کی ضرورت ہے مثال کے طور پر کونڈوم کے استعمال کو فروغ دینا وغیرہ۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر بش کا موقف ایڈز کے خلاف جاری کوششوں کو کمزور بناتا ہے۔ امریکہ پر یہ تنقید بھی کی گئی ہے کہ اس نے اپنے وفد میں شامل ارکان کی تعداد کم کر دی ہے۔ بنکاک میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار کائلی مورس کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ماضی کے مقابلے میں اس برس سرکاری سائنسدانوں کی کم تعداد کو اجلاس میں شرکت کے لیے بنکاک بھیجا ہے جس کی واضح وجہ ان پر اٹھنے والے اخراجات ہیں۔ کائلی مورس نے دیگر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی سائنسدانوں کی کم تعداد کو اجلاس میں شرکت کے لیے بھیجنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ کانفرنس کا ایجنڈا کنزرویٹو پارٹی کے منشور سے کم مطابقت رکھتا ہے۔ دنیا میں ایڈز سے بچاؤ کے لیے کی جانے والی کوششوں کے لیے امریکہ سب سے زیادہ مالی امداد دینے والا ملک ہے اور وہ آئندہ پانچ برس میں پندرہ ارب ڈالر خرچ کرے گا۔ بنکاک میں اتوار کو ایڈز مخالف کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے متنبہ کیا کہ متعدد ممالک اب بھی ایڈز کے خلاف خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے تام سربراہان کو ایڈز کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ کوفی عنان نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں خصوصاً خواتین کو ضروری امداد فراہم نہیں کی جا رہیں کیونکہ خواتین زیادہ تعداد میں اس مرض سے متاثر ہو رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||