پیٹ سے نیچے بھوک کے اخراجات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی کی ایک عدالت نے ایک بے روزگار کی یہ اپیل مسترد کر دی ہے کہ ریاست اسے پیٹ کے علاوہ جنسی بھوک مٹانے کے اخراجات بھی دے۔ اس پنتیس سالہ بے روزگار نے ریاست سے جنسی مواد کی خریداری کے لیے رقم اور سرکاری اخراجات پر جسم فروشوں تک رسائی یا مفت چکلے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس بے روزگار نے پہلے جرمنی کی وزارتِ خارجہ سے درخواست کی تھی کہ وہ اس کی تھائی بیوی کے جرمنی آنے کے اخراجات ادا کرے لیکن وزارتِ خارجہ نے اس مطالبے کو پورا کرنے سے انکار کر دیا۔ جس کے بعد اس نے لوکل اتھارٹی کو فریق بناتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسے جنسی تقاضوں سے محروم کیے جانے کا ہرجانہ ادا کیا جائے۔ اس کی اس درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے جنوبی شہر انسباخ کی عدالت نے کہا کہ ان سرگرمیوں کے لیے دی جانے والی رقوم کو فلاحی اخراجات کے لیے دی جانے والی رقم کے علاوہ ہونا چاہیے۔ عدالت کے ترجمان بے بتایا ہے اب یہ شخص عدالت کے فیصلے خلاف اپیل کی منصوبے بندی کر رہا ہے۔ اس بے نام شہری نے عدالت سے کہا تھا کہ اس کی
درخواست گزار نے پچیس سو یورو یعنی تین ہزار پچاس ڈالر یا سترہ سو پونڈ ماہانہ کا مطالبہ کیا تھا اور اس کے حساب کے مطابق وہ اس رقم سے ہر ہفتے ایک بار چکلے جائے گا، آٹھ پورنوگرافک ویڈیو خریدے گا اور ان مقاصد کے لیے آمد و رفت کے سفری اخراجات پورے کرے گا۔ اس نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ ہر ہفتے چکلے جانا اس کی جسمانی اور نفسیاتی فلاح کے لیے ناگزیر ہے۔ تاہم عدالت نے کہا کہ لوکل اتھارٹی اس کے سماجی تحفظ کی ذمہ دار ہے اور اس کے لیے وہ اس روزمرہ ضروریات کے اخراجات کو پورا کرتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||