یرغمالی کی رہائی: امریکی تصدیق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی حکام نے یرغمالی علی حسون کی بازیابی کی تصدیق کی ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس کی بازیابی کیسے اور کب ہوئی۔ بیروت میں امریکی سفارت خانے نے کہا ہے کہ لبنانی نژاد امریکی فوجی واصف علی حسون زندہ ہیں اور وہ لبنان کے امریکی سفارتخانے میں موجود ہیں۔ واصف علی حسون کے خاندان نے بھی بتایا ہے کہ ایک شحض نے ان کے گھر آ کر اطلاع دی ہے کہ واصف علی حسون’ زندہ اور آزاد‘ ہیں۔ عرب ٹیلی ویژن چینلوں پر ایک وڈیو ٹیپ دکھائی گئی تھی جس میں ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ چند گھنٹے قبل امریکی دفترِ خارجہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ اس نے لبنان میں امریکی سفارتخانے سے رابطہ کیا ہے اور واصف علی حسون وہاں ہیں۔ تاہم دفترِ خارجہ نے بھی یہ نہیں بتایا کے حسون کی جسمانی حالت اب کیا ہے اور اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ واصف اس وقت لاپتہ ہوئے تھے جب ان کا یونٹ فلوجہ کے قریب اس علاقے میں متعین تھا جسے سنیوں کا علاقہ جانا جاتا ہے۔ واصف علی حسون کے اغوا کے بعد ان کے بارے میں متضاد اطلاعات آتی رہی ہیں۔ عراق میں سرگرم شدت پسند گروپ انصار السنّہ نے پہلے دعوی کیا تھا کہ واصف حسون کا سر قلم کر دیا گیا ہے ۔ البتہ ایک روز بعد ہی اس دعوے کی تردید کر دی گئی تھی اور کہا گیا کہ جس ویب سائٹ پر یہ اعلان کیا گیا ہے اس کا السنہ سے کوئی تعلق نہیں۔ واصف کے والد نے اغوا کرنے والوں سے اپیل کی تھی کہ اس کے بیٹے کومسلمان اور عرب ہونے کے نام پر رہا کر دیا جائے۔ اب تک امریکی حکام ان اطلاعات کے بارے میں یہ کہتے رہے تھے کہ وہ ان کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم اب پہلی بار اس کی تصدیق کر دی گئی ہے کہ حسون بازیاب ہو چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||