جنوبی کوریائی یرغمالی کا سر قلم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیول حکام نےعراق میں دھمکی کے مطابق جنوبی کوریائی یرغمالی کم سن ال کا سر قلم کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔ جس یرغمالی کا سر قلم کیا گیا تھا وہ ایک مترجم تھا اور اس کی عمر تیتیس سال تھی بتایاگیا ہے کہ اس کا بے سر کا جسم مغربی بغداد میں ملا ہے۔ کم سن ال امریکی فوج کو سپلائی دینے والی ایک کمپنی میں کام کرتے تھے اور انہیں گزشتہ ہفتے فلوجہ کے قریب سے اغواء کیا گیا تھا۔ جنوبی کوریا نے کم کو یرغمال بنانے والوں کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا تھا کہ کم کی زندگی بچانے کے لیے وہ عراق میں فوجی کردار ختم کر دے۔ عربی سیٹلائٹ چینل الجزیرہ نے کہا کہ اسے ایک نئی ٹیپ موصول ہوئی ہے جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ کوریا کے اس یرغمالی کے بارے جسے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس یرغمالی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ جماعت التوحید و جہاد نے کیا ہے۔ گزشتہ ماہ اس گروپ نے جس کا دعویٰ ہے کہ اس کی قیادت القاعدہ کے ابو مصاب الزرقاوی کرتے ہیں ایک اور یرغمالی نک برگ کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ یہ گروپ دیگر کئی واقعات کے علاوہ عراقی گورننگ کونسل کے رکن عزوالدین سلیم کے قتل کا بھی ذمہ دار ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||