’امریکی یرغمالی زندہ اور آزاد ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیروت میں امریکی سفارت خانے نے کہا ہے کہ اس کو قابل بھروسہ اطلاعات ملی ہیں جس کے مطابق لبنانی نژاد امریکی فوجی واصف علی حسون زندہ ہیں اور وہ لبنان میں موجود ہیں۔ واصف علی حسون کے خاندان نے کہا ہے کہ ایک شحض نے ان کے گھر آ کر اطلاع دی ہے کہ واصف علی حسون’ زندہ اور آزاد‘ ہیں ان کو تین ہفتے قبل اغواء کیا گیا تھا جس کے بعد عرب ٹیلی ویژن چینلوں پر ایک وڈیو ٹیپ دکھائی گئی تھی جس میں ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ واصف علی حسون کے اغوا کے بعد ان کے بارے میں متضاد اطلاعات آتی رہی ہیں۔ عراق میں سرگرم شدت پسند گروپ انصار السنہ نے پہلے دعوی کیا تھا کہ واصف حسون کا سر قلم کر دیا گیا ہے ۔البتہ ایک روز بعد اس دعوے کی تردید کر دی گئی تھی۔ شدت پسند گروپ نے واصف حسون کی سر قلمی کی خبر کی تردید کرتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ آئندہ اس کی کسی کارروائی سے مطلق تمام خبریں اس کی آفیشل ویب سائٹ سے حاصل کی جائیں۔ واصف کے والد نے اغوا کرنے والوں سے اپیل کی تھی کہ اس کے بیٹے کومسلمان اور عرب ہونے کے نام پر رہا کر دیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||