ٹارچر کے ملزم عدالت میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد کی ابو غریب جیل میں عراقی قیدیوں کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی کرنے والے تین امریکی فوجیوں چارلز گرانر، ایوان فریڈرک اور یوال ڈیوس کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ پیر کے روز ہونے والی سماعت کا مقصد مفصل کارروائی سے قبل قانونی باریکوں اور پیچیدگیوں کا ختم کرنا تھا۔ عراقی قیدیوں سے بدسلوکی کے الزامات کے ضمن میں ایک فوجی جیریمی سیوٹس کو پہلے ہی ایک برس قید کی سزا سنائی جا چکی ہے جبکہ ان کے باقی تین ساتھیوں پر زیادہ سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں اور انہیں چوبیس برس تک قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ تینوں ملزمان میں سے ایک کے وکیل کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی وجہ ’نامناسب احکامات‘ تھے۔ سارجنٹ ڈیوس کے وکیل صفائی برگرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے موکل پر عائد کردہ الزامات خارج کرانے کی کوشش کریں گے کیونکہ اعلیٰ فوجی حکام نے قیدیوں سےسختی برتنے کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ وکیل صفائی نے یہ بھی کہا کہ ’چین آف کمانڈ‘ کا ناقص سلسلہ امریکی صدر جارج بش پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فوجی جج تمام الزامات خارج نہیں کرتے تو وہ مقدمہ امریکہ لے جانے کی کوشش کریں گے۔ عراقی قیدیوں کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں کے سلسلے میں اب تک کُل سات امریکی فوجیوں پر الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔ چارلز گرانر کے خلاف الزامات کی نوعیت سنگین ترین ہے جس میں گزشتہ نومبر برہنہ قیدیوں کے ساتھ تصاویر بنوانا بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ گرانر کے خلاف یہ الزامات بھی ہیں کہ انہوں نے نہ صرف قیدیوں کو برہنہ ہونے پر مجبور کیا بلکہ ان سے جبراً مشت زنی بھی کرائی۔ سارجنٹ فریڈریک پر الزام ہے کہ ایک قیدی کا سر ڈھانپ کر اسے ایک ڈبے پر کھڑا کیا اور اس کے جسم سے تار لگا دینے کے بعد کہا کہ اگر وہ نیچے گِرا تو اسے بجلی کے چھٹکے دے کر ہلاککر دیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||