مرر سکینڈل، فوجیوں سے پوچھ گچھ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اخبار دی ڈیلی مرر کے سکینڈل کے سلسلے میں چار فوجیوں کو گرفتار کرنے کے بعد ان سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ وزارت نے ان افراد کی شناخت نہیں بتائی ہے اور انہیں کوئی الزام عائد کیے بغیر رہا کردیا گیا ہے۔ اخبار نے چند روز قبل کچھ تصاویر شائع کی تھیں جن میں برطانوی فوجیوں کے ہاتھوں عراقی جنگی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی ہوتے دکھائی گئی تھی۔ اس سے قبل اخبار نے صفحہ اول پر جلی حروف میں برطانوی فوج سے اس بات پر معافی مانگی تھی کہ اخبار میں عراقی قیدیوں پر ٹارچر کی جعلی تصاویر شائع ہوئی تھیں۔ کوئین کی لنکاشائر رجمنٹ نے اخبار کی معذرت قبول کر لی تاہم یہ کہا ہے کہ اخبار ان لوگوں کی بیخ کنی میں مدد کرے جو ان تصاویر کے اصل ذمہ دار ہیں۔ اخبار نے اپنے قارئین سے بھی معذرت چاہی ہے۔ ڈیلی مرر کے مدیر پیئر مورگون کو جن پر برطانوی فوجیوں کی عراقی قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی کی جعلی تصاویر چھاپنے کا الزام لگا یا گیا تھا، جمعہ کو ان کےعہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ برطانوی فوج کی رجمنٹ لنکاشائر نے اخبار سے ان تصاویر کو شائع کرنے پر باقاعدہ معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اخبار کے انتظامی بورڈ نے رجمنٹ کی طرف سے اس مطالبے کے بعد اخبار کے مدیر کو ان کے عہدے سے برخاست کر دیا۔ ڈیلی مرر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ اس کو ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت جعلی تصاویر کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ڈیلی مرر بورڈ نے کہا کہ پیئر مورگان کا اپنے عہدے پر قائم رہنا نامناسب ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||