BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 May, 2004, 14:47 GMT 19:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مرر سکینڈل، فوجیوں سے پوچھ گچھ
News image
کوئین کی لنکاشائر رجمنٹ نے اخبار کی معذرت قبول کر لی ہے
برطانوی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اخبار دی ڈیلی مرر کے سکینڈل کے سلسلے میں چار فوجیوں کو گرفتار کرنے کے بعد ان سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ وزارت نے ان افراد کی شناخت نہیں بتائی ہے اور انہیں کوئی الزام عائد کیے بغیر رہا کردیا گیا ہے۔

اخبار نے چند روز قبل کچھ تصاویر شائع کی تھیں جن میں برطانوی فوجیوں کے ہاتھوں عراقی جنگی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی ہوتے دکھائی گئی تھی۔

اس سے قبل اخبار نے صفحہ اول پر جلی حروف میں برطانوی فوج سے اس بات پر معافی مانگی تھی کہ اخبار میں عراقی قیدیوں پر ٹارچر کی جعلی تصاویر شائع ہوئی تھیں۔

کوئین کی لنکاشائر رجمنٹ نے اخبار کی معذرت قبول کر لی تاہم یہ کہا ہے کہ اخبار ان لوگوں کی بیخ کنی میں مدد کرے جو ان تصاویر کے اصل ذمہ دار ہیں۔ اخبار نے اپنے قارئین سے بھی معذرت چاہی ہے۔

ڈیلی مرر کے مدیر پیئر مورگون کو جن پر برطانوی فوجیوں کی عراقی قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی کی جعلی تصاویر چھاپنے کا الزام لگا یا گیا تھا، جمعہ کو ان کےعہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

برطانوی فوج کی رجمنٹ لنکاشائر نے اخبار سے ان تصاویر کو شائع کرنے پر باقاعدہ معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اخبار کے انتظامی بورڈ نے رجمنٹ کی طرف سے اس مطالبے کے بعد اخبار کے مدیر کو ان کے عہدے سے برخاست کر دیا۔

ڈیلی مرر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ اس کو ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت جعلی تصاویر کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ڈیلی مرر بورڈ نے کہا کہ پیئر مورگان کا اپنے عہدے پر قائم رہنا نامناسب ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد