ابوغریب جیل سے تین سو عراقی رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے بغداد کی ابوغریب جیل میں تین سو سے زائد قیدیوں کو رہا کرنا شروع کر دیا ہے۔ عراقی قیدیوں سے بھری بس جمعہ کی صبح جیل سے روانہ ہونے کی اطلاع ہے۔ ان قیدیوں کی رہائی جیل کے نئے کمانڈر جیفری ملر کی تجاویز کا حصہ ہے جس کا مقصد جیل میں موجود چار سو سے پندرہ سو قیدیوں کی تعداد کو کم کرنا ہے۔ آئندہ ہفتے مزید قیدی رہا کئے جانے کی توقع ہے۔ جمعرات کو امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کےدورہِ جیل پر انہوں نے کہا تھا کہ قیدیوں کی تصاویر سے امریکی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے گھناؤنا اقدام کرنے والے چند فوجی امریکی ارادوں کی ترجمانی نہیں کرتے۔ ابوغریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ امریکی فوجیوں کی بدسلوکی کی تصاویر سامنے آنے کے بعد یہ جیل سکینڈل کا مرکز رہی ہے۔ کمانڈر جنرل جیفری ملر نے کہا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کی پوری کوشش کریں گے کہ مستقبل میں عراقی قیدیوں سے بدسلوکی نہ کی جائے۔ انہوں نے امریکی فوجیوں کو ہدایت بھی کی تھی کہ وہ اپنے عمل سے یہ بات ثابت کریں کے قیدیوں سے احترام سے پیش آنے کے بین الاقومی ضابطوں کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے گا۔ یاد رہے کہ اتحادی فوج نے یہ بات تسلیم کی تھی کہ انہیں بغداد کی ابوغریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کی اطلاع جنوری میں مل گئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود عراق میں امریکی انتظامیہ کے سربراہ پال بریمر نے کہا کہ قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی سے ہونے والی پبلسٹی کے باوجود عراق کو قابض اتحادیوں سے فائدہ پہنچا ہے۔ صدر بش کے الفاظ دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عراق کی تعمیرِ نو میں فوجیوں کا عراقی عوام کےساتھ کام کرنا امریکہ کی اصل روح کی عکاسی کرتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||