’ملیشیا کوہتھیار ڈالنا ہوں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان صدر حامد کرزئی نے ہرات کے دورے میں گورنر اسماعیل خان کو ایک سخت بیان کے ذریعے متنبہ کیا ہے کہ ملک میں پرائیوٹ ملیشیا سے ہتھیاروں کی واپسی کا عمل پورا ہو کے رہے گا۔ ان کے اس دورے کے دوران صوبے میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مسٹر کرزئی کے مطابق یہ موضوع گورنر ہرات اسماعیل خان سے ملاقات کے دوران زیر بحث اس لیے نہیں آیا کہ اس پر فیصلہ پہلے سے ہی کیا جا چکا تھا۔ اسماعیل خان کو اس عمل کے بنیادی نکات پر اعتراض ہے بقول ان کے اس طرح ملک میں اقتدار کاخلا پیدا ہو جائے گا۔ اسماعیل خان کا کہنا ہے کہ علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال قابو میں رکھنے کے لیے ان کی فوجیں کافی ہیں اور مزید افغان فوج کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی سلسلے میں امداد فراہم کرنے والے مغربی اداروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ستمبر میں ہونے والے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے لیے ضروری ہے کہ ملک کو پرائیوٹ ملیشیا کے ہتھیاروں سے پاک کیا جائے۔ حامد کرزئی مارچ میں ہرات میں مختلف دھڑوں کے درمیان ہونے والے تصادم کے بعد یہ دورہ کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ صدر بننے کے ڈھائی برس کے عرصے میں یہ حامد کرزئی کا ہرات کا صرف دوسرا دورہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||