BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دوالگ ریاستوں کی تجویز
مشرق وسطٰی
نقشہ راہ کےمتلاشی
مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے امریکی منصوبے، نقشہ راہ کو دوبارہ فعال بنانے کے لئے بلایا جانے والا چہار فریقی اجلاس، دو الگ الگ ریاستوں کی تجویز کے اعادے پر ختم ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے علاوہ، امریکہ، روس اور یورپی یونین کے نمائیندے اس اجلاس میں موجود تھے، جو ایسے وقت میں بلایا گیا تھا جب اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شارون کے غزہ سے انخلاء کے منصوبے کی، خود ان کی جماعت لیکود نے زبردست مخالفت کی۔

ایریل شارون کے اس منصوبے کو، جس کی صدر بش اور وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے پر جوش حمایت کی تھی، فلسطینی پہلے ہی رد کر چکے ہیں، جبکہ امریکہ اور برطانیہ میں، موجودہ حکومتوں کے ناقدین یہ کہہ رہے تھے کہ شارون کے نئے منصوبے کی حمایت کا مطلب نقشہ راہ سے ہٹنا ہے۔ یوں شارون کا سیاسی مستقبل خطرے میں ہے، بش اور بلیئر کو بھی خفت اٹھانی پڑی ہے، اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر بہت غیر یقینی ہوگئی ہے۔

اس پس منظر میں ہونے والے اجلاس کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے اسرائیل اور فلسطین دونوں سے نقشہ راہ کے حوالے سے کیے گئے وعدے پورے کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی سے کہا کہ وہ شدت پسندوں کے خلاف اقدامات کرے اور اسرائیل سے کہا کہ وہ سویلین ہلاکتوں کو روکنے کی کوشش کرے۔

ادھر ایریل شارون نے کہا ہے کہ ریفرنڈم میں شکست پر وہ استعفیٰ نہیں دیں گے بلکہ اپنے منصوبے کو کچھ رد و بدل کے بعد دوبارہ سامنے لے کر آئیں گے۔ اس سلسلے میں وہ اپنے وزراء اور رفقاء سے مشورے کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد