حکمت یار سے علیحدگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کے بعض ساتھیوں نے ان سے علیحدگی کے بعد مرکزی سیاسی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ علیحدہ ہونے والے گیارہ ارکان پر مشتمل وفد نے افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے بعد اعلان کیا کہ وہ جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں اور ستمبر میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لیں گے۔ وفد کے ایک رکن خالد فاروق نے کہا کہ گزشتہ تین سالوں میں حکمت یار سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔ تاہم پشاور میں افغان امور کے ماہر اور تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ خالد فاروق حزب اسلامی کے غیر فعال رہنما تھے اور ان کے حکومت میں شامل ہونے سے حزب اسلامی کی مقبولیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ رحیم اللہ کا کہنا تھا کہ حزب اسلامی کے دوسرے رہنماؤں نے بھی حامد کرزئی سے ماضی میں ملاقاتیں کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حامد کرزئی ان لوگوں سے ملاقاتیں کرکے پشتون علاقوں میں اپنے لئے حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ حکمت یار طالبان سے پہلے مجاہدین کی مخلوط حکومت میں وزیراعظم تھے۔ انہوں نے افغانستان میں غیرملکی افواج کے خلاف جہاد کا اعلان کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||