BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 May, 2004, 02:19 GMT 07:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکمت یار سے علیحدگی
News image
حکمت یار روسی قبضے کے خلاف برسرپیکار رہے ہیں
افغانستان میں حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کے بعض ساتھیوں نے ان سے علیحدگی کے بعد مرکزی سیاسی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔

علیحدہ ہونے والے گیارہ ارکان پر مشتمل وفد نے افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے بعد اعلان کیا کہ وہ جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں اور ستمبر میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لیں گے۔

وفد کے ایک رکن خالد فاروق نے کہا کہ گزشتہ تین سالوں میں حکمت یار سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

تاہم پشاور میں افغان امور کے ماہر اور تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ خالد فاروق حزب اسلامی کے غیر فعال رہنما تھے اور ان کے حکومت میں شامل ہونے سے حزب اسلامی کی مقبولیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

رحیم اللہ کا کہنا تھا کہ حزب اسلامی کے دوسرے رہنماؤں نے بھی حامد کرزئی سے ماضی میں ملاقاتیں کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حامد کرزئی ان لوگوں سے ملاقاتیں کرکے پشتون علاقوں میں اپنے لئے حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

حکمت یار طالبان سے پہلے مجاہدین کی مخلوط حکومت میں وزیراعظم تھے۔

انہوں نے افغانستان میں غیرملکی افواج کے خلاف جہاد کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد