| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’امریکییوں کے خلاف جہاد کریں‘
افغانستان کے ایک سابق مجاہدین رہنما مولوی یونس خالص نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان میں موجود امریکی قیادت والی افواج کے خلاف جہاد شروع کریں۔ جہاد شروع کرنے کی یہ بات ایک آڈیو ٹیپ میں کہی گئی ہے۔ یہ آڈیو ٹیپ پشاور میں بی بی سی کے نمائندے کے حوالے کی گئی۔ اس ٹیپ کے ساتھ مولوی یونس خالص کے بیٹے مولوی انوارالحق مجاہد کا ایک خط بھی شامل تھا جس میں انہوں نے اپنے والد کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انیس سو اسی کے عشرے میں سوویت فوج کے خلاف ان کی جدو جہد بے حد نمایاں تھی۔ افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جہاد کی اپیل جاری کرنے کے فوراً بعد مولوی یونس خالص اپنے خاندان کے ہمراہ گھر چھوڑ کر کسی نا معلوم جگہ کے لئے روانہ ہو گئے۔ مولوی یونس خالص ان دنوں سخت بیمار ہیں۔ پشتو زبان میں ریکارڈ اس آڈیو پیغام میں مولوی خالص نے کہا کہ امریکی وہ حملہ آور ہیں جنہوں نے اسلامی ممالک پر ناجائز طریقے سے قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجوگی ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح سے سابق سوویت فوجیوں نے یہاں اپنا قبضہ جمایا تھا۔ لہذا بقول مولوی خالص کے افغان شہریوں کو چاہئے کہ وہ امریکیوں کو نکال باہر کرنے کے لئے کمربستہ ہو جائیں اور جہاد کا آغاز کریں۔ اس ٹیپ میں مولوی خالص نے سوویت فوج کے خلاف اپنی جدوجہد کے دوران اپنے بیٹے اور خاندان کے دیگر افراد کی قربانی یاد دلائی۔ واضح رہے کہ مولوی خالص اور ان کے اہل خانہ سابق طالبان کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ مولوی خالص کی جماعت حزب اسلامی سوویت قبضے کے خلاف لڑنے والی سات اسلامی جماعتوں میں سے ایک تھی۔ اس سے قبل طالبان کے رہنما ملا محمد عمر اور سابق مجاہدین رہنما گلبدین حکمت یار نے بھی افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کے خلاف جہاد کی اپیل کر رکھی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||