ذرا سی بات پر گھریلو تشدد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچھلے دنوں سعودی ٹی وی کی ایک خاتون میزبان پر گھریلو تشدد کی خبریں اور تصویریں عالمی زرائع ابلاغ کی سرخیوں میں رہیں۔ رانیا الباز کی یہ تصویریں ان کی اجازت کے بعد شائع کی گئیں۔ رانیا کے بقول انہیں یہ زخم ان کے شوہر نے دیئے۔ بی بی سی کے ایک پروگرام سے اپنی روداد سناتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اب تو میں ٹھیک ہوں مگر مجھے چہرے پر سخت چوٹیں آئی تھیں اور ایک آپریشن کے بعد میرا چہرہ بچایا جا سکا ہے۔ ’پہلے میرے شوہر نے میرا گلا گھونٹنے کی کوشش کی اور جب میں بے ہوش ہوگئی تو اس نے میرا چہرہ کچلنا چاہا۔ اور پھر وہ مجھے ہسپتال کے دروازے پر اسی حالت میں چھوڑ کر لوٹ گیا ۔‘
’اس نے ہسپتال والوں کو میرے کوائف کے بارے میں مطلع کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا ، بہر حال انہو ں نے میری والدہ سے رابطہ کیا اور جب وہ پہنچیں تو انہیں بتایا کہ میرے بچنے کی امید صرف تین فیصد ہے‘۔ ’میری اس حالت کی وجہ بڑی معمولی سے تھی میری اپنے شوہر کے ساتھ بمشکل چار جملوں کی بحث سے ہوئی اس کے پاس مجھے اس طرح مارنے کا کوئی جواز نہیں تھا‘۔ ’مگر یہ گھریلو تشدد کوئی پہلی بار تو نہیں تھا ایسا تو پہلے بھی ہوتا رہا تھا مگر اس قدر سفاکی اس نے پہلے نہیں دکھائی تھی۔ میں نے بیشتر بار اس تشدد کو خاموشی سے سہا میرا خیال تھا کہ میں اس کو ٹھیک کر لوں گی اور میں اپنے خاندان کی عزت کو بھی تار تار نہیں کرنا چاہتی تھی۔‘ ’ اب میں نے لب کشائی کی ہے کیونکہ میں تقریبا موت کے منہ سے لوٹی ہوں اب مجھے اپنے بچو ں کے لیے جینا ہے لیکن اب مجھے اپنی اور ان کی جانوں کا خطرہ ہے۔ میں نے اسی لیے اپنی تصویروں کو چھاپنے کی اجازت دی کیونکہ میں چاہتی تھی کہ دوسرے لوگ دیکھیں اور سبق حاصل کریں یہ سبق ہے ہر عورت ہر مرد کے لیے۔‘ میرے شوہر نے اب خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے ۔ اب ایک جج ہمارے مقدمے کا فیصلہ کرے گا۔لیکن میں نہیں جانتی کے فیصلہ کس کے حق میں ہو گا۔ ’ مجھے یقین ہے کہ میں نے اس طرح گھریلو تشدد کی شکار دیگر خواتین کو حوصلہ دینے کی کوشش کی ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||