BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 September, 2003, 16:22 GMT 20:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سعودی عرب: اصلاحات کا مطالبہ
سعودی عرب
سعودی عرب میں مئی میں خودکش بم حملوں میں پینتیس افراد مارے گئے تھے۔

سعودی عرب میں اسلامی شدت پسندوں کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کا مقابلے کرنے کے لئے انقلابی اصلاحات پر مبنی ایک درخواست ولی عہد شہزادہ عبداللہ کے حوالے کی گئی ہے۔

درخواست میں، جس پر اکاون عورتوں سمیت تقریباً تین سو سے زائد افراد نے دستخط کئے ہیں سلطنت سے کہا گیا ہے کہ وہ خود کو درپیش چیلنج کا جواب دے۔

اس درخواست میں جسے ’قوم کے دفاع میں‘ کا نام دیا گیا ہے فیصلہ سازی میں عوامی عدم شمولیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

نقادوں کا کہنا ہے اسی کمی کی وجہ سے سلطنت شدت پسندوں کی افزائش گاہ بن گئی ہے۔

سعودی عرب امریکہ پر گیارہ ستمبر کو ہونے والے ان حملوں کے بعد شدید دباؤ کا شکار رہا ہے جب یہ معلوم ہوا تھا کہ انیس میں سے پندرہ ہائی جیکرز کی قومیت سعودی تھی۔

اس درخواست میں تشدد کی مذمت کرتے ہوئے ولی عہد شہزادہ عبداللہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ انقلابی اصلاحات کے ایک جامع اور مکمل منصوبے کی ضرورت کو محسوس کریں۔

اس درخواست پر دستخط کرنے والی خواتین میں سے ایک ادیبہ اور ماہر سماجیات فوزیہ ابو خالد کا کہنا ہے کہ ’توقعات بہت زیادہ بلند ہیں۔‘

سعودی شہریوں کو سیاسی و سماجی امور پر بحث مباحثہ کے لئے عوامی اجتماعات منعقد کرنے کی آزادی حاصل نہیں اور ملک میں آزادئ صحافت بھی انتہائی محدود ہے۔

خواتین عوامی مقامات پر الگ تھلگ رہنے، گاڑی نہ چلا پانے اور عوامی مقامات پر خود کو سر سے پاؤں تک ڈھانپ کر رکھنے پر مجبور ہیں۔

فوزیہ ابو خالد نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ’ہم چاہتے ہیں تبدیلی اندر سے ہی آئے۔ ہماری اپنی ثقافت سے۔۔۔اور اس کے لئے ہم مرد و زن سب ہی ذمہ داری نبھانے کو تیار ہیں۔‘

گزشتہ جنوری میں بھی تقریباً سو سعودی شہریوں نے وسیع پیمانے پر اصلاحات کے لئے ایک درخواست پر دستخط کئے تھے۔ تاہم دارالحکومت ریاض میں مئی کے مہینے میں ہونے والے خودکش بم حملوں میں تقریباً پینتیس افراد مارے گئے تھے۔

مشرق وسطیٰ کے امور کے بارے میں بی بی سی کے نامہ نگار راجر ہارڈی کا کہنا ہے کہ روشن خیال سعودی شہری محسوس کرتے ہیں کہ اصلاحات کے بارے میں جتنی زیادہ بات اس وقت کی جارہی ہے، تبدیلی کا مرحلہ اتنی ہی تکلیف دہ حد تک سست رو ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دارالحکومت ریاض میں مئی کے خودکش بم حملے ایک پیمانہ ہیں جن سے جانچا جاسکتا ہے کہ اندرونی طور پر اسلامی شدت پسندی کا خطرہ اس سے کہیں زیادہ ہے جتنا کہ اسے سمجھا جاتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد