حماس کے نئے قائد کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ عبد العزیز رنتیسی کو شیخ یاسین کی جگہ تنظیم کا نیا قائد منتخب کیا گیا ہے۔ دریں اثناء اسرائیل نے شیخ یاسین کے قتل کے بعد فلسطین کومزید حملوں کے لئے تیار رہنے کی تنبیہ کی ہے۔ اسرائیل کے عوامی سکیورٹی کے وزیر نے فلسطین کو انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ سب پر ہماری نظر ہے‘۔ حماس کے بانی شیخ احمد یاسین کے قتل کے بعد اسرائیل نے فلسطینی حملوں کے اندیشے کے باعث حساس مقامات پر سکیورٹی مزید چوکس کر دی ہے۔ غرب اُردن میں فلسطینی علاقوں کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے جبکہ اسی دوران غزہ میں ہونے والے راکٹ حملے کے بعد اسرائیلی افواج علاقے میں داخل ہو گئی ہیں۔
حماس نے پلٹ کر حملہ کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’ہر شہر ہر سڑک پر موت برسا دی جائے گی‘۔ حماس کے بانی شیخ احمد یاسین کو جنہیں کئی اسرائیل پر خودکش حملوں کے پیچھے کار فرما سمجھا جاتا ہے پیر کی صبح غزہ میں ہیلی کاپٹروں کے ایک حملے میں ہلاک کیا گیا تھا۔ ان کی ہلاکت کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی ہے لیکن اسرائیلی وذیر دفاع کے بقول اسرائیل ’دہشت گردوں کو ختم کرنےکی کارروائی جاری رکھے گا‘۔ انہوںنے مذید کہا کہ
یوں تو اسرائیلی عوام کی طرف سے اس قتل کی حمایت کی جا رہی ہے مگر ملک کی اندرونی سکیورٹی کے سربراہ نے اس قتل کی مخالفت کی ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی کابینہ میں بھی کئی ایسی آوازیں سر اٹھا رہی ہیں جن کا کہنا ہے کہ اس قتل سے خطے میں خون خرابا بڑھ جائے گا۔ بش انتظامیہ نے اس قتل کی مزمت تو نہیں کی ہے لیکن اس کا یہ کہنا بھی ضرور ہے کہ اس قتل سے علاقے میں صورتحال اور مشکل ہو جائے گی۔ بش انتظامیہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ صورتحال سے تحمل سے نمٹے۔ جبکہ خود اسرائیلی وزیر اعظم کے مطابق ’ شیخ یاسین سب سے بڑے دہشت گرد تھے جنہوں نے کئی سو اسرائیلیوں کو موت کی گھاٹ اتارا تھا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||