| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
لیبیا: تخفیف اسلحہ بات چیت شروع
لیبیا کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پروگرام کو ختم کرنے پر مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔ لیبیا کے ایک سینیئر اہلکار نے اس سلسے میں اقوام متحدہ کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد البرادئی سے ملاقات کی ہے۔ جوہری توانائی کی بین الاقوامی تنظیم ( آئی اے ای اے) کے ترجمان نے بتایا کہ ’محمد البرادئی نے لیبیا کے قومی سائنسی تحقیقی بورڑ کے سیکریٹری سے وسیع تباہی کے ہتھیار ختم کرنے کے لیبیا کے عز م پر بات چیت کی‘۔ ویانا میں ہونے والی یہ بات چیت لیبیا کے اس فیصلہ کے ایک روز بعد ہوئی ہے جس میں کہا گیا کہ لیبیا وسیع پیمانے پر ہتھیار بنانے کا اپنا منصوبہ ترک کر دے گا اور غیر مشروط معائنے کی اجازت بھی دے گا۔ ویانا مذاکرات کا اہم مقصد لیبیا کے عزم کی تصدیق کے طریقوں پر غور رکنا ہے۔ مغرب سے مہینوں بات چیت کے بعد لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی نے کہاہے کہ ان کا ملک ہر طرح کی دہشت گردی سے ماورا آزاد دنیا کے قیام میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے جمعہ کو کیے جانے والے حیران کن اعلان کا واشنگٹن اور لندن خیر مقدم کیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا کہ یہ اعلان جرات مندانہ اور تاریخی ہے۔ صدر بش نے کہا ہے کہ لیبیا کا تباہی کے ہتھیار بنانے کا منصوبہ ترک کرنے کا فیصلہ دوسرے ممالک کے لیے ایک مثال ہے کہ کس طرح آزاد دنیا سے تعلقات استوار کیے جا سکتے ہیں۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ صدر بش چاہتے ہیں کہ لیبیا کے تقلید کرتے ہوئے اب شمالی کوریا بھی اپنے جوہری پروگرام کو ترک کر دے۔ صدر بش نے کہا ’کرنل قذافی نے اگر اپنا وعدہ پورا کیا تو اس سے ہمارا ملک اور تمام دنیا محفوظ اور پر امن ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا ’وہ رہنما جو جراثیمی اور کیمیاوی ہتھیاروں کے منصوبے ترک کردیتے ہیں ان کے لئے امریکہ اور دوسرے ممالک سے تعلقات استوار کرنے کے لئے راستہ کھلا ہے‘۔ ڈرہم کیتھیڈرل میں کرنال قذافی کے فیصلہ کا اعلان کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ کرنل قذافی نے انہیں بتایا ہے کہ وسیع تباہی کے ہتھیار بنانے کا منصوبہ ترک کرنے کاعمل شفاف اور واضح ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیبیا کو صرف تین سو کلومیٹر پہنچ کے میزائل بنانے یا رکھنے کی اجازت ہوگی۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک بہت عرصے سے شک کرتے آئے ہیں کہ لیبیا خفیہ طور پر کیمیاوی اور جراثیمی ہتھیار بنانے کے پروگراموں پر عملدرآمد کررہا ہے۔ تاہم لیبیا نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔ اس کا موقف رہا ہے کہ لیبیا کے پاس صرف ادویات بنانے اور زرعی تحقیقات کرنے کی سہولیات ہیں۔ ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ برطانیہ گزشتہ نو ماہ سے لیبیا سے مذاکرات کرتا رہا ہے۔ ٹونی بلیئر نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے لیبیا اب عالمی برادری میں شامل ہوسکے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||