| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاکر بی بمبار کوستائیس برس قید
لاکربی بم کیس میں ملوث محمد المگراہی کو ستائیس برس کی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ عبدل باسط علی محمد المگراہی کی سزا انیس سو ننانوے سے شمار کی جائے گی جب انہیں پہلی مرتبہ حراست میں لیا گیا تھا۔ لیبیا کے خفیہ ادارے کے ایجنٹ المگراہی کو دو سال قبل عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ انہیں کم از کم بیس برس کی سزا کاٹنی ہوگی۔ تاہم قانون میں تبدیلی کے باعث اکیاون سالہ مگراہی کو پھر ایک مرتبہ سکاٹ لینڈ کی عدالت کے سامنے پیش ہونا پڑا تاکہ ان کی سزا کی معیاد از سر نو طے کی جا سکے۔ گلاسگو کے ہائی کورٹ میں چار منٹ کی سماعت کے بعد، انہی ججوں نے اس پر غور کرنےکے لئےسماعت روک دی کہ المگراہی کو رہا کئے جانے سے قبل کتنے سال قید میں رہنا پڑے گا، جنہوں نے انہیں دو ہزار ایک میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
دسمبر انیس سو اٹھاسی میں پین ایم کی فلائٹ ایک سو تین سکاٹ لینڈ کے قصبے لاکربی کے اوپر فضا میں دھماکے سے پھٹ گئی، اور اس میں دو سو ستر افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ہالینڈ میں سکاٹ لینڈ کے قوانین کے تحت المگراہی پر چوراسی دن تک مقدمہ چلایا گیا اور انہیں قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔ لارڈ سدرلینڈ، مکلین اور کولزفیلڈ نے جو اس مقدمے میں جج تھے،’اس جرم کی ہیبت ناک نوعیت کو مد نظر رکھتے ہوئے‘، بیس برس کی قید کی سفارش کی تھی۔ تاہم یہ فیصلہ صرف ایک سفارش تھی۔ انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق، جو اس فیصلہ کے بعد متعارف ہوئے ہیں، عمر قید کی سزا پانے والوں کو یہ صحیح طور پر بتانا ضروری ہے کہ پیرول کے لئے اپیل کرنے سے قبل انہیں کتنی سزا کاٹنی ہے۔ مارچ دو ہزار دو میں اس سزا کے خلاف ان کی اپیل مسترد ہونے کے بعد المگراہی کو گلاسگو کی بارلِنی جیل کے ایک خصوصی سیل میں رکھا گیا ہے۔ منگل کو لاکربی میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین المگراہی سے چند ہی قدم کے فاصلے پر موجود تھے۔ المگراہی کی وکیل مارگریٹ سکاٹ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل بدستور کہتے رہے ہیں کہ وہ اس بم دھماکے میں ملوث نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’وہ اپنی سزا ایک غیر ملکی ماحول میں، قید تنہائی میں گزار رہے ہیں، وہ بالکل اکیلے ہیں۔ مجھے اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں کہنا کہ میرے موکل پوری قوت سے اپنی بے گناہی پر مصر ہیں۔‘ جج سدر لینڈ نے کہا کہ ’ صاف ظاہر ہے کہ یہ شر انگیز فعل پوری جانکاری کے ساتھ انجام دیا گیا کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو اس میں کئی بے گناہ لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔‘ جج نے یہ بھی کہا کہ المگراہی کو تیس برس کی قید سنائی جا سکتی تھی تاہم انہوں نے ان کی عمر اور اس امر کو مد نظر رکھا کہ وہ ایک غیر ملک میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||