انڈیا میں پانی کی جنگ میں پھنسے دیہات

ملکوٹ کے گرد کاویری سے منسلک جھیلوں کا ایک نیٹ ورک موجود ہے مگر کم بارشوں کی وجہ سے یہ سارے ذخائر سوکھنے لگے ہی
،تصویر کا کیپشنملکوٹ کے گرد کاویری سے منسلک جھیلوں کا ایک نیٹ ورک موجود ہے مگر کم بارشوں کی وجہ سے یہ سارے ذخائر سوکھنے لگے ہی

کئی ہفتوں کی غیر معمولی گرمی کے بعد، انڈیا کی ریاست کرناٹک کے ضلع مندیہ میں 31 اگست کی رات کو تیز بارش ہوئی۔ مندیہ تیزی سے سوکھتے ہوئے دریائے کاویری کے ساحل پر ہے۔

مقامی کسانوں کے لیے یہ برستا آسمان امیدیں لے کر آیا تھا۔ ان میں سے ایک ملکوٹ سے تعلق رکھنے والے شیکھر گورو گاؤڈے ہیں جو گنے اور مکئی کی فصل اگاتے ہیں۔

مگر اگلی صبح سورج پھر کھیتوں کو چمکانے لگا اور گورو سات گھنٹوں تک ایک ناریل کے درخت تلے بیٹھے مزید بارش کا انتظار کرتے رہے۔

اُس برستی رات کو دو ہفتے ہو گئے ہیں اور گورو آج بھی مزید بارش کے منتظر ہیں۔ انھیں فکر ہے کہ ان کی فصل گرمی کے باعث تباہ ہو جائے گی۔

اگرچہ ملکوٹ کے گرد کاویری سے منسلک جھیلوں کا ایک نیٹ ورک موجود ہے مگر کم بارشوں کی وجہ سے یہ سارے ذخائر سوکھنے لگے ہیں۔

اپنے چھ گھر والوں کا پیٹ پالنے کے ساتھ ساتھ گورو کو دو گائے اور دو بچھڑوں کی ضرویات بھی پوری کرنی ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’میں اپنے گھر والوں کے لیے چاول نہیں اگا سکا ہوں اور اب مجھے ریاست کی جانب سے فراہم کیے گئے سستے راشن پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اگر ایک کسان ہوتے ہوئے مجھے خوراک کے لیے کسی اور کا سہارا لینا پڑے تو یہ میرے اور انڈیا دونوں کے لیے فکر کی بات ہے۔‘

گورو آج بھی مزید بارش کے منتظر ہیں
،تصویر کا کیپشنگورو آج بھی مزید بارش کے منتظر ہیں

مندیہ دریائے کاویری کے ساحل پر ہے اور یہ دریا کرناٹک اور تامل ناڈو کے درمیان تنازع کا باعث ہے۔ گزشتہ ماہ کرناٹک کے شہر بنگلور سمیت ریاست کے مختلف حصوں میں اس حوالے سے شدید فسادات اور مظاہرے ہوئے۔

دونوں ریاستوں کےدرمیان کاویری کے پانی کا تنازع سو برس سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ 1990 میں مرکزی حکومت نے ایک ٹرائیبونل قائم کیا۔ سولہ برس تک سماعت، تجزیے اور مطالعے کے بعد2007 میں اس ٹرائیبونل نے اپنا فیصلہ سنایا۔ اس فیصلے کے تحت کرناٹک کو کاویری کا کتنا پانی تمل ناڈو کے لیے جاری کرناہے یہ طے کر دیا گیا ہے۔

گورو کے کھیت سے تقریباً 40 کلومیٹر دور کروگووالو نامی گاؤں کے سید غنی خان نے پچھلے سال دس ایکڑ کے ایک پلاٹ پر چاول کاشت کیے تھے اور اب وہ بارشوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ وہ صرف ایک ایکڑ پر ہی چاول لگا لیں۔

ان کی زمینوں میں سے آدھی کو آپ باشی کے نظام کے ذریعے پانی ملتا ہے اور باقی آدھی بارشوں پر منحصر ہوتی ہے۔

سید غنی خان کو حکومت کی جانب سے کاشت کاری میں بہترین کارکردگی کے لیے انعامات بھی مل چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک مقامی اہلکار کے اس بیان کے بعد وہ پریشان ہیں کہ اس سال کاویری سے ان کی زمین کو سیراب کرنے کے لیے پانی بالکل نہیں مل سکے گا اور بارشوں کی کمی نے حالات اور مشکل کر دیے ہیں۔

کرناٹک کے 30000 دیہات میں سے اکثریت میں اس اگست ضرورت سے کم بارش ہوئی اور اس ماہ بھی حالات کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ ریاست میں پانی ذخیرہ کرنے والے 3598 ٹینکوں میں سے 41 فیصد خشک پڑے ہیں۔

اس سال بارہ ستمبر تک دریائے کاویری کے ساحل کے چار اضلاع مندیہ، میسور، چماراجن نگر اور رمنا نگر میں قابل کاشت اراضی میں سے صرف دو تہائی زیرِ کاشت ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کاویری کے پانی چار اہم ذخائر اس وقت عام سطح کے مقابلے میں ایک چوتھائی سطح اور 2015 کے مقابلے میں نصف سطح پر ہیں۔

سید غنی خان کو حکومت کی جانب سے کاشت کاری میں بہترین کارکردگی کے لیے انعامات بھی مل چکے ہیں
،تصویر کا کیپشنسید غنی خان کو حکومت کی جانب سے کاشت کاری میں بہترین کارکردگی کے لیے انعامات بھی مل چکے ہیں

کرناٹک میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ریاستی ادارے کے سربراہ شری نواس ریڈی کا کہنا ہے کہ ملک میں 70 فیصد بارشیں جنوب مغرب کی جانب سے آنے والی سالانہ مون سون کے بادلوں کے ذریعے آتی ہیں اور اس سال وہ ختم ہونے کو ہیں۔ کسان شدید مشکلات میں ہیں۔ لوگوں کو پانی انتہائی احتیاط سے استعمال کرنا ہوگا ورنہ کرناٹک میں پینے کے پانی کا بحران شروع ہو جائے گا۔

اس ماہ کے آغاز میں انڈیا کی سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا تھا کہ 20 ستمبر سے کرناٹک کو کاویری دریا میں کم از کم 12000 مربع فٹ پانی تمل ناڈو کے لیے چھوڑنا ہوگا۔ دونوں ریاستوں کا کہنا ہے کہ انھیں فوری طور پر آب پاشی کے لیے پانی درکار ہے۔

کرناٹک کا کہنا ہے کہ ناکافی بارشوں کی وجہ سے کاویری میں پانی انتہائی کم ہوگیا ہے چنانچہ وہ تمل ناڈو کو پانی نہیں دے سکتے جس کے بعد تمل ناڈو نے عدالتِ عظمیٰ میں 50000 مربع فٹ فی سیکنڈ کا دعویٰ کر دیا۔ ستمبر کے آغاز میں سریم کورٹ نے کرناٹک کو دس روز تک 12000 مربع فٹ فی سیکنڈ پانی دریا میں چھوڑنے کا حکم دیا جو کہ دریا کا تقریباً ایک چوتھائی پانی ہے۔

،تصویر کا ذریعہkashif masood

مندیہ اس سارے تنازعے کے نتیجے میں ہونے والے فسادات کا مرکز رہا ہے۔ لوگوں نے سڑکیں بلاک کیں اور گاڑیاں جلا دیں۔ علاقے سے 37 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔

ادھر بنگلور میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک 22 سالہ خاتون کی قیادت میں ایک مشتعل ہجوم نے 42 بسوں کو آگ لگا دی۔ بنگلور میں ہنگامی قوانین نافذ اور 15000 سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

منگل کو سپریم کورٹ نے کرناٹک حکومت کو حکم دیا ہے کہ 6000 کیوبک فٹ پانی آئندہ سات روز کے لیے تمل ناڈو کے لیے چھوڑا جائے۔

کرناٹک کے وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ یہ حکم ناقابلِ عمل ہے اور اس وقت صرف اتنا پانی موجود ہے وہ کہ ریاست میں مئی 2017 تک پینے کے پانی کی ضرورت کو پورا کر سکے۔

کرناٹک نے اب فیصلہ کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں کرے گا جس کے بعد ایک آئینی کشمکش اور دونوں ریاستوں کے درمیان تناؤ متوقع ہے۔