کاویری دریا کے پانی پر تنازعہ، دفعہ 144 نافذ، اجلاس طلب

انڈیا میں کاویری دریا کے پانی کی تقسیم کے تنازعے پر سپریم کورٹ نے پیر کو ایک حکم جاری کیا ہے جس کے بعد ریاست کرناٹک کے کئی حصوں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
مشتعل مظاہرین نے کئی جگہ توڑ پھوڑ اور آتش زنی کی۔
ان پرتشدد واقعات کے بعد دارالحکومت بنگلور سمیت کئی شہروں میں دفعہ 144 لگا دی گئی ہے۔
تمل ناڈو کو پانی دینے کے فیصلے سے ناراض مظاہرین نے بنگلور، میسور، مڈيا، چتردرگا اور دھاڑواڑ اضلاع میں گاڑیوں کو نشانہ بنایا، ان کے شیشے توڑے تقریبا 40 بسوں کے ڈپو اور کئی دوسری گاڑیوں میں آگ لگا دی۔
کرناٹک کے پولیس ڈائریکٹر جنرل اوم پرکاش نے کہا کہ حالات کشیدہ ہیں لیکن کنٹرول میں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
خیال رہے کہ کاویری دریا کا پانی انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک اور تمل ناڈو کے درمیان ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے تنازعے کا باعث ہے۔ کرناٹک کا کہنا ہے کہ اسے اس دریا سے خاطر خواہ پانی نہیں ملتا ہے۔
جبکہ رواں سال پانچ ستمبر کو انڈیا کی عدالت عظمی نے کرناٹک سے آنے والے دس دنوں تک روزانہ 12 ہزار کیوسک پانی چھوڑنے کے لیے کہا تھا تاکہ تمل ناڈو کے کسان اپنے کھیتوں کو سیراب کر سکیں۔
لیکن کرناٹک میں جہاں سے یہ دریا نکلتا ہے وہاں کے لوگوں کو عدالت کا یہ فیصلہ نامناسب نظر آیا اور وہ سڑکوں پر نکل آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب تمل ناڈو کے رجسٹریشن نمبر والی ایک ٹرک پر ہجوم نے پتھراؤ کیا اور پھر اسے نذر آتش کر دیا۔

کرناٹک میں چھ تمل ناڈو رجسٹریشن والے ٹرکوں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔
جبکہ دوسری جناب تمل ناڈو کی ریاست چینئی میں موبائل کی دکان اور بنگلور کے دو ہوٹل میں بھی توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے واقعات کی اطلاعات ہیں۔
پرتشدد واقعات کے پیش نظر بنگلور میں ہزاروں کی تعداد میں پولس فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔
کرناٹک کی ریاستی ریزرو پولیس فورس، سٹی آرمڈ ریزرو پولیس، ریپڈ ایکشن فورس، كوئك ری ایکشن ٹیم، سپیشل فورس، سینٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس اور انڈو تبتن بارڈر پولیس فورس اور ہزاروں ہوم گارڈز کو تعینات کیا گیا ہے۔
وزیر اعلی سدھ رميا نے منگل کو ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
کئی مقامات پر بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج بھی کیا۔
پولیس نے بتایا کہ بنگلور میسور شاہراہ پر تمل ناڈو رجسٹریشن کی کئی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا گیا اور گاڑيوں کو نذر آتش بھی کیا گيا ہے۔
دریں اثنا سدھ رمیا نے تمل ناڈو کی وزیر اعلی جے للتا کو ایک خط لکھا ہے جس میں کرناٹک کے لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔







