’گائے کھانے کی وجہ سے بےعزت کیا گیا‘

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
ہریانہ کے میوات ضلع کے ڈینگر ہیڑی گاؤں میں دو ہفتے پہلے دومسلم خواتین کے اجتماعی ریپ کے واقعے سے علاقے میں دہشت پھیلی ہوئی ہے۔
حلمہ آوروں نے مبینہ طور پر ایک بچی اور ایک شادی شدہ خاتون کے ساتھ ریپ کیا اور ان کے دو رشتے داروں کو زد وکوب کر کے قتل کر دیا۔ اس حملے میں دو بچوں سمیت چار افراد بری طرح زخمی ہیں۔
٭ <link type="page"><caption> انڈیا: ہریانہ کی بریانی میں گائے کے گوشت کی تصدیق</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/09/160910_haryana_beef_biryani_checking_sz" platform="highweb"/></link>
٭ <link type="page"><caption> ’پولیس بریانی میں بیف چیک کرے گی‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/09/160908_india_biryani_beef_banned_hk" platform="highweb"/></link>
مقامی لیڈر اور میو برادری کے رہنما رمضان چودھری بتاتے ہیں کہ اس واقعے سے پورا میوات ہل گیا ہے۔ ’ہم لوگ بہت صدمے میں ہیں، سکتے میں ہیں اور بہت ہی دہشت زدہ ہیں کیونکہ اس طرح کا خوفناک واقعہ اس سے پہلے ہمارے علاقے میں کبھی نہیں ہوا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اس واقعے کے خلاف لوگوں میں زبردست غم وغصہ ہے۔
میوات ریاست ہریانہ کا مسلم اکثریتی علا قہ ہے۔ جہاں یہ بہیمانہ واقعہ رونما ہوا ہے وہ کھیتوں کے درمیان ایک الگ تھلگ جگہ ہے جہاں متاثرہ خاندان رہتا ہے۔ متاثرہ فیملی نزدیک کے قصبے میں منتقل ہو گئی ہے۔ جائے واردات پر ٹوٹی ہوئی چارپائیاں باہر پڑی ہوئی ہیں۔ یہ واردات نصف رات میں انجام دی گئی تھی۔

ایک متاثرہ خاتون نے بی بی سی کو بتایا: ’مجھ سے پوچھا تیرا خاوند کہاں ہے، میں نے بتایا کہ وہ گڑگاؤں میں ہیں۔ پھر پوچھا کب آئے گا۔ میں نے بتایا وہ بقرعید پر آئیں گے تو کہا کہ تم لوگ گائے کھاتے ہو، اس لیے تمہاری بے عزتی کر رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
متاثرہ خاتون نے بتایا انھیں بہت زد وکوب کیا گیا اور جسمانی اور جنسی طور پر انھیں ایذائیں دی گئیں۔
خاتون کے ساتھ جس بچی کے ساتھ اجتماعی ریپ ہوا وہ اس حالت میں نہیں تھی کہ وہ بات کر سکے۔
اس واقعے میں پولیس نے چار حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ حملہ آور چار سے زیادہ تھے۔ بعض ملزموں کے فیس بک پروفائل سے پتہ چلتا ہے کہ وہ سخت گیر ہندو تنظیموں کے حمایتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہbb
پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایسا کوئی سراغ نہیں ملا ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہوکہ حملہ آوروں کا تعلق ’گئو رکشا‘ تنظیم سے ہو۔
نوح بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد خان کہتے ہیں: ’یہاں ملک کی تقسیم کے دوران بھی ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کبھی جھگڑا نہیں ہوا، یہاں اچھا بھائی چارہ ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اس واقعے کا مقصد یہاں کی سماجی ہم آہنگی کو خراب کرنا ہو۔‘
میوات میں اس واقعے پر مہا پنچایت بھی ہو چکی ہے اور احتجاج اور مظاہرے بھی۔ سینیئر وکیل نورالدین نور کہتے ہیں کہ یہ صرف ایک مجرمانہ واقعہ نہیں ہے۔ ’یہ ریکارڈ پر نہیں ہے اور نہ ہی یہ تفتیش کا موضوع ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے اس واقعے کے پیچھے ایک مخصوص ذہنیت کام کر رہی تھی جس کے تحت اتنی بے دردی اور سفاکی کے ساتھ یہ واردات انجام دی گئی ہے۔‘

دہلی میں متاثرہ خاندان کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس میں حقوق انسانی کی کارکن شبنم ہاشمی نے الزام عائد کیا کہ اس واقعے میں ہندو نواز تنظیموں کے کارکن ملوث ہیں۔ ’یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے یہ ایک محض معمولی سا مجرمانہ واقعہ ہے۔ لیکن جس طرح کی سفاکی ان خواتین کے ساتھ کی گئی وہ تبھی ممکن ہے جب پہلے سے سوچ سمجھ کر کسی واردات کو انجام دیا جائے۔‘
جنتا دل یونائٹیڈ کے رکن پارلیمان علی انور نے میوات کا دورہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس کیس کو جان بوجھ کر دبایا جا رہا ہے۔ ’شروع سے ہی یہ کوشش ہورہی ہے کہ اس معاملے کو دبایا جائے۔ کابینہ کی سطح پر ملزموں کوبچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
لیکن ہریانہ بی جے پی کے اقیلتی محاذ کے صدر چودھری اورنگزیب کہتے ہیں کہ اس واقعے پرکچھ لوگ سیاست کر رہے ہیں ’یہ ہندو مسلم کا سوال نہیں ہے۔ جو ملزم ہے وہ ملزم ہے۔ قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ میری حکومت متاثرین کو انصاف دلانے کی پابند ہے۔‘

دہلی میں حقوق انسانی کے کارکن اور سپریم کورٹ کے وکیل شہزاد پونا والا نے خواتین کے قومی کمیشن سے اپیل کی ہے کو وہ دوہرے قتل اور اجتاعی ریپ کے اس واقعے کی آزادانہ تحقیات کا حکم جاری کرے تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے اور بہیمانہ واردات کے مرتکبین کو سزا دی جاسکے۔ قومی کمیشن ابھی تک خاموش ہے۔
ریاست کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے اس واقعے کی تفتیش سی بی آئی سے کرانے کا وعدہ کیا ہے۔
قتل اور ریپ کا یہ واقعہ صرف مجرمانہ ہے یا اس میں مذہبی نفرت کی بھی کارفرمائی ہے؟ یہ تو تفتیش کا سوال ہے۔ وجہ جو بھی ہو لیکن اس سے پورا میوات دہشت میں ہے۔







