ویٹیکن سٹی: مدر ٹریسا کے لیے سینٹ کا درجہ

سنہ 2003 میں مدر ٹیریسا کو روحانیت کا درجہ دیا گیا تھا جو سینٹ بننے کی جانب پہلا قدم ہے۔

،تصویر کا ذریعہREUTERS

،تصویر کا کیپشنسنہ 2003 میں مدر ٹیریسا کو روحانیت کا درجہ دیا گیا تھا جو سینٹ بننے کی جانب پہلا قدم ہے۔

کیتھولک مسیحیوں کے پیشوا پوپ فرانسس نے انڈیا میں غریبوں کے لیے کام کرنے والی راہبہ مدر ٹریسا کو ویٹیکن میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں سینٹ کا درجہ دیا ہے۔

اتوار کے روز لاکھوں لوگ ویٹیکن سٹی میں سینٹ پیٹرز سکوئر پر اکٹھا ہوئے اور انھوں نے مدر تریسا کو سینٹ قرار دیے جانے کی تقریب میں شرکت کی۔

دوسری جانب کولکتہ میں اس موقع پر مشنريز آف چیریٹی میں جشن کا ماحول ہے۔

٭ <link type="page"><caption> مدر ٹریسا کو سینٹ کا درجہ دینے کا اعلان</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/03/160315_mother_teresa_to_be_made_saint_sr" platform="highweb"/></link>

٭<link type="page"><caption> ’مدر ٹریسا کے باقیات البانیہ کو نہیں دے سکتے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/india/2009/10/091012_mother_teresa_ka" platform="highweb"/></link>

٭<link type="page"><caption> راہبہ مدر ٹریسا کا دوسرا معجزہ بھی تسلیم</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/12/151218_mother_teresa_miracle_tk" platform="highweb"/></link>

کئی زائرین اتوار کے روز سورج طلوح ہونے سے پہلے ہی ویٹیکن پہنچنا شروع ہو گئے تھے تاکہ انھیں تقریب کے لیے اچھی جگہ مل سکے۔

کارڈینل اینجلو اماٹو نے مدر ٹریسا کے حالاتِ زندگی کا مختصر جائزہ اور کام کی تفصیل بیان کی اور پوپ سے درخواست کی کہ وہ انھیں کیتھولک کلیسا کی جانب سے سینٹ قرار دیں۔

تیرہ سربراہانِ مملکت اور مشنریز آف چیریٹی کی سینکڑوں سسٹرز نے تقریب میں شرکت کی۔

کارڈینل اینجلو اماٹو نے مدر ٹریسا کے حالاتِ زندگی کا مختصر جائزہ اور کام کی تفصیل بیان کی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکارڈینل اینجلو اماٹو نے مدر ٹریسا کے حالاتِ زندگی کا مختصر جائزہ اور کام کی تفصیل بیان کی۔

کیتھولک مسیحیوں میں روحانیت کے درجے پر فائز ہونے کے لیے کیتھولک چرچ کی جانب سے کم از کم ایک معـجزہ تسلیم کیا جانا ضروری ہے جبکہ سینٹ کے طور پر تسلیم کیے جانے کا عمل شروع ہونے کے لیے کم از کم دو معجزوں کوتسلیم کیا جانا ضروری ہے۔

سنہ 2003 میں مدر ٹیریسا کو روحانیت کا درجہ دیا گیا تھا جو سینٹ بننے کی جانب پہلا قدم ہے۔

سنہ 1997 میں انتقال کے بعد مدر ٹریسا سے منسوب دو بیماریوں کے معجزانہ طریقے سے ٹھیک ہونے پر ویٹیکن کی جانب سے انھیں سینٹ بنانے کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔

سال 2002 میں ویٹیکن کے مطابق مدر ٹریسا سے دعا کرنے کے بعد ایک انڈین خاتون کے پیٹ کا ٹیومر معجزانہ طریقے سے ٹھیک ہو گیا تھا۔

اسی طرح ویٹیکن نے ٹیریسا سے منسوب ایک اور معجزہ کی تصدیق کی۔ سنہ 2008 میں برازیل کی ایک خاتون کا برین ٹیومر ٹھیک ہو گیا، ویٹیکن کے مطابق وہ مدر ٹریسا کی دعا سے صحت یاب ہوئی تھیں۔

رواں سال پوپ فرانسس نے مدر ٹیریسا کے دوسرے معجزے کو تسلیم کرتے ہوئے انھیں سینٹ کا درجہ دینے کا اعلان گیا تھا۔

مدر ٹریسا کو کولکاتہ کی جھگی بستیوں میں ان کے کام کے لیے امن کے نوبل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔

اتوار کے روز لاکھوں لوگ ویٹیکن سٹی میں سینٹ پیٹرز سکوئر پر اکٹھا ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناتوار کے روز لاکھوں لوگ ویٹیکن سٹی میں سینٹ پیٹرز سکوئر پر اکٹھا ہوئے۔

مدر ٹیریسا کا اصل نام ایگنس گون کابوہیک یو تھا اور وہ 1910 میں مقدونیہ کے شہر سکوپئے میں پیدا ہوئی تھیں تاہم انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ انڈیا میں گزرا اور 87 سال کی عمر میں انڈیا میں ہی ان انتقال ہوا۔

انھوں نے 1950 میں مشنريز آف چیریٹی کی شروعات کی تھی اور دنیا بھر کی تین ہزار سے زیادہ راہبات اس سے منسلک ہیں۔

مریضوں کی بستیاں، غریبوں کے لیے باورچی خانے، سکول، یتیم بچوں کے لیے گھر وغیرہ ایسی خدمات ہیں جو مدر ٹیریسا نے شروع کی تھی۔

بعض حلقوں کی جانب سے انھیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا اور ان پر ان کی مشنريز کی جانب سے چلائے جانے والے ہسپتالوں میں صفائی کے نظام خراب ہونے کے الزام عائد کیے گئے اور خیراتی کام کے لیے آمر حکمرانوں سےامدا لینے کے الزام بھی لگائے گئے۔