انڈیا میں’ کرائے کی کوکھ‘ پر پابندی کا مسودہ تیار

صرف بانجھ جوڑوں کو سرو گیسی کا حق حاصل ہوگا اور ایسے میں بھی وہ صرف کسی رشتے دار سے ہی رابطہ کر سکتے ہیں
،تصویر کا کیپشنصرف بانجھ جوڑوں کو سرو گیسی کا حق حاصل ہوگا اور ایسے میں بھی وہ صرف کسی رشتے دار سے ہی رابطہ کر سکتے ہیں

انڈیا کی حکومت نے کرائے کی کوکھ کے کاروبار پر پابندی عائد کرنے کے لیے تیار کردہ قانونی مسودہ عام کر دیا ہے۔

اگر یہ قانون پارلیمنٹ سے منظور کر لیا گیا تو اس کے تحت ایسے افراد پر سروگیسی (کرائے کی ماں) کے ذریعے بچے حاصل کرنے پر پابندی ہو گی جن کے پاس انڈین پاسپورٹ نہیں ہو گا۔

٭ <link type="page"><caption> بھارتی حکومت کا کرائے کی کوکھ پر پابندی کا مطالبہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/10/151028_surrogacy_restrictions_tk" platform="highweb"/></link>

٭ <link type="page"><caption> کرائے کی ماؤں کو بچوں سے بچھڑنے کا دکھ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/08/160815_indian_surrogate_mothers_zis" platform="highweb"/></link>

اس کے علاوہ ہم جنس پرستوں یا انڈیا کے تنہا والدین پر بھی بچوں کے حصول کی پابندی ہو گی۔

صرف بانجھ جوڑوں کو سروگیسی کا حق حاصل ہو گا اور ایسے میں بھی وہ صرف کسی قریبی رشتے دار سے ہی رابطہ کر سکتے ہیں۔

بانجھ پن سے متعلق تنظیموں کا اس پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس سے ایک غیر قانونی صنعت کا آغاز ہو جائے گا۔

انڈیا کو دنیا بھر میں سروگیسی یا ’کرائے کی کوکھ‘ کا گڑھ قرار دیا جاتا ہے جہاں بانجھ جوڑے، جن میں غیر ملکی بھی شامل ہیں، مقامی عورتوں کو ان کے جنین کی مدد سے بچہ پیدا کر کے دینے کے عوض رقم اد کرتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق یہ صنعت سالانہ ایک ارب ڈالر کماتی ہے، لیکن اس کے باضابطہ نہ ہونے کی وجہ سے تحفظات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق انڈیا میں یہ صنعت سالانہ ایک ارب ڈالر کماتی ہے
،تصویر کا کیپشنایک اندازے کے مطابق انڈیا میں یہ صنعت سالانہ ایک ارب ڈالر کماتی ہے

وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ اس مجوزہ قانون کے تحت صرف مقامی بانجھ جوڑوں کو، جن کی شادی کو کم از کم پانچ برس ہو چکے ہوں، سروگیسی کی اجازت ہو گی اور یہ خاتون بھی ان کی قریبی رشتہ دار ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا ’یہ جامع بل تجارتی سروگیسی پر مکمل پابندی عائد کر دے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’بے اولاد جوڑے جو طبی طور پر بچے پیدا کرنے کے قابل نہیں ہیں وہ اپنی کسی قریبی رشتہ دار رابطہ کریں گے، اس سے بےغرض سروگیسی کی جائے گی۔‘

کئی ناقدین کا کہنا ہے کہ بچوں کے حصول کے لیے بے قرار جوڑوں کے پاس اب محدود راستے رہ گئے ہیں۔

بانجھ پن کے علاج کی ماہر ڈاکٹر ارچنا دھون نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہمیں ایسے قوانین بنانے کی ضرورت ہے کہ کسی عورت کو زبردستی سروگیسی پر مجبور نہ کیا جائے جبکہ اس پر مکمل پابندی کی کوئی منطق نہیں ہے۔‘

دنیا بھر میں غریب لوگوں کا ایک تہائی انڈیا میں مقیم ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہی غربت رقم کے عوض عورتوں کو کرائے کی ماں بننے کے لیے آمادہ کرنے کی بڑی وجہ ہے۔