’سعودی عرب میں انجینیئر کی نوکری پر مزدوری‘

سعودی عرب میں جدہ سمیت دیگر شہروں سے اطلاعات ہیں کہ انڈین شہریوں کی ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں اور وہ وہاں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
اتوار کو انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج نے ایک ٹویٹ کی کہ سعودی عرب میں تقریباً دس ہزار انڈین بھوکے رہ رہے ہیں۔
بی بی سی ہندی کی دلنواز پاشا نے سعودی عرب کے شہر دمام میں پھنسے ایک ہندوستانی گنیش شنمگم سے فون کے ذریعے رابطہ کیا۔
گنیش شنمگم نے بتایا ہے کہ ’جب میں نے ہندوستان میں رہتے ہوئے انجینیئرنگ پاس کی تو مجھے ایک بہتر نوکری کی امید تھی لیکن جب انڈین کمپنیوں میں اچھی نوکری نہیں ملی تو میں نے مشرق وسطیٰ کی کمپنیوں میں ملازمت تلاش کرنا شروع کیا۔‘
گنیش نے بتایا کہ ’میں نے چنئی میں ایک ایجنٹ سے رابطہ کیا جو عرب ممالک میں لوگوں کو نوکری دلواتے تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ سعودی عرب کی ایک بڑی کمپنی میں انجینیئر کی نوکری ملے گی۔ بس میں اُن کے جھانسے میں آ گیا۔ اپنا گھر گروی ركھوا كر میں نے ایجنٹ کو تقریباً سوا لاکھ روپے ادا کیے اور 23 فروری 2016 کو سعودی عرب پہنچا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خواب تب چکنا چور ہوگئے جب بتایا گیا کہ مجھے تعمیراتی کمپنی میں مزدور کا کام کرنا ہوگا۔‘
’مجھے بتایا گیا تھا کہ 2500 ریال (تقریباً 44 ہزار انڈین روپے) ملیں گے لیکن مجھے صرف 1300 (تقریباً 23 ہزار روپے) ہی مل رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

انھوں نے بتایا کہ مزدوری کرتے ہوئے اُن کی ٹانگ میں چوٹ لگی لیکن وہ صحیح سے اپنا علاج بھی نہیں کروا سکے اور اب مزدوری کرتے ہوئے اُن کی ٹانگ میں بہت درد ہوتا ہے۔
گنیش نے بتایا کہ انھوں نے اپنے مسائل سے آگاہ کرنے کے لیے کئی بار وزیر خارجہ سشما سوراج کو ٹویٹ کی لیکن انھیں کوئی جواب نہیں ملا۔
اُن کا کہنا ہے کہ اُن کا پاسپورٹ اور دیگر ضروری کاغذات روزگار دینے والے شخص نے ضبط کر لیے ہیں۔
(جب بی بی سی نے گنیش کے مینیجر سے رابطہ کیا تو کوئی جواب موصول نہیں ہوا) گنیش کا مزید کہنا تھا کہ ’میرا کفیل کہتا ہے کہ اگر تمھیں اپنا پاسپورٹ اور کاغذات واپس چاہیے تو 15 ہزار ریال ادا کرنے ہوں گے۔ میں یہاں آنے کے لیے اپنا گھر گروی رکھ چکا ہوں۔ میرے ماں باپ مزدور ہیں، وہ اتنا پیسا کہاں سے لائیں گے؟ ‘
انھوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اُن کے پاس دستاویزات نہیں ہیں، اس لیے وہ انڈین سفارت خانے نہیں جا سکتے اور حکومت ان حالات میں اُن کی مدد کرے۔







