کابل سے اغوا ہونے والی انڈین خاتون بازياب

،تصویر کا ذریعہJudith DSouza FB Page
انڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں چھ ہفتے پہلے اغوا ہونے والی انڈین خاتون جوڈتھ ڈی سوزا کو بازیاب کروالیا گيا ہے۔
انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنی ایک ٹویٹ کے ذریعے یہ معلومات فراہم کی ہیں۔
سنیچر کو انھوں نے لکھا ہے: ’میں نے جوڈتھ سے بات چیت کی ہے۔ وہ آج ہی شام انڈین سفیر من پریت ووہرا کے ساتھ دہلی پہنچ رہی ہیں۔‘
اپنی ٹویٹ انھوں نے افغانستان میں انڈین سفیر من پریت کا بازيابی کے لیے کی گئي ان کی کوششوں کے لیے اپنا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER
لیکن بھارتی وزير خارجہ سشما سوراج نے ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ جوڈتھ ڈی سوزا کو یرغمالیوں کی قید سے کیسے آزاد کروایا گيا۔
40 سالہ جوڈتھ کو گذشتہ ماہ کابل میں ان کے دفتر کے باہر سے اغوا کر لیا گیا تھا۔
وہ گذشتہ کئی برسوں سے 30 ممالک میں تعلیم اور صحت کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم آغا خان فاؤنڈیشن کے لیے کام کرتی رہی ہیں۔
ڈی سوزا کے خاندان والوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی خط لکھ کر ان سے ان کی رہائی میں مدد کی گزارش کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اغوا کے بعد جوڈتھ کی بہن ایگنس ڈی سوذا نے ٹوئٹر پر کئی تبصرے کیے تھے اور بھارتی وزیر خارجہ سشما سوارج سے بھی مدد کی فریاد کی تھی۔
بہن کے مطابق جوڈتھ ڈی سوزا گذشتہ ایک سال سے کابل میں رہ رہی تھیں۔
جوڈتھ ڈی سوزا کا خاندان گذشتہ 30 سالوں سے کولکتہ میں رہ رہا ہے۔







