افغان طالبان نے ہلمند میں 25 مسافر اغوا کر لیے

طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے تصدیق کی ہے کہ اس حملے اور اغوا کے پیچھے ان کا ہاتھ ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنطالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے تصدیق کی ہے کہ اس حملے اور اغوا کے پیچھے ان کا ہاتھ ہے

افغانستان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق طالبان نے صوبہ ہرات اور قندھار کے درمیان چلنے والی تین بسوں کو روک کر کم ازکم 25 مسافروں کو اغوا کر لیا ہے۔

افغان طالبان نے اغوا کی اس واردات کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

٭ <link type="page"><caption> قندوز میں طالبان نے 35 مسافر اغوا کر لیے</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/05/160531_kunduz_taliban_abduction_sh" platform="highweb"/></link>

یہ واقعہ صوبہ ہلمند کی حدود میں پیش آیا اور مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ان بسوں میں 100 کے قریب افراد موجود تھے۔

پولیس کے مطابق طالبان نے 40 سے زیادہ افراد کو بسوں سے اتارا تاہم پھر 18 بچوں اور خواتین کو چھوڑ کر 25 مردوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔

طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے تصدیق کی ہے کہ اس حملے اور اغوا کے پیچھے ان کی تنظیم کا ہاتھ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی تفتیشی آپریشن کا حصہ ہے۔

خیال رہے کہ یہ چند ہفتوں کے دوران طالبان کی جانب سے مسافروں کے اغوا کا دوسرا بڑا واقعہ ہے۔

اس سے قبل 31 مئی کو طالبان نے ملک نے شمالی صوبے قندوز میں کابل سے بدخشاں کی جانب سفر کرنے والی چار بسوں کو روک کر 35 افراد کو اغوا کر لیا تھا۔

افغان حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ان مغویوں میں سے چند کو ہلاک بھی کر دیا گیا ہے۔