مایاوتی کے بارے میں نازیبا بیان پر دلتوں کا احتجاج

انڈیا کی ریاست اتر پردیش کی سابق وزیر اعلی اور دلت رہنما مایاوتی کے بارے میں بی جے پی کے ریاستی نائب صدر دیا شنکر سنگھ کے نازیبا بیان کے بعد مایاوتی کے ہزاروں حامی احتجاج کے لیے لکھنؤ میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
ادھر بی جے پی نے دیا شنکرسنگھ کو پارٹی سے بر طرف کر دیا ہے۔
لیکن مایاوتی نے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’صرف معافی مانگنا کافی نہیں ہے، پورا ملک اس نازیبا بیان کے لیے بی جے پی کو معاف نہیں کرے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہPTI
دیا شنکر نے انتخابات کے لیے امیدواروں کو انتخاب لڑنے کا ٹکٹ دینے میں مایاوتی کی پارٹی میں بدعنوانی کا ذکر کرتے ہوئے ریاست کی سابق وزیر اعلی کا موازنہ سیکس ورکر سے کیا تھا۔ انھوں نے اپنی بد زبانی کے لیے معافی مانگی ہے لیکن ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں مایاوتی کے ہزاروں حامی احتجاج میں سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔
اتر پردیش میں آئندہ چند مہینوں میں اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نازیبا بیان سے بی جے پی کو انتخابات میں نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ تنازع ایک ایسے وقت میں پیدہ ہوا ہے جب گجرات میں چند دنوں قبل ایک ہندو تنظیم کے کارکنوں نے ایک مری ہوئی گائے کی کھال اتارنے کی پاداش میں کئی دلتوں کو اونا شہر میں سر عام زدو کوب اور ذلیل کیا تھا۔

اس واقعے کے خلاف دلتوں نے پورے گجرات میں گذشتہ روز ہڑتال کی تھی۔ احتجاج کے دوران دلتوں نے درجنوں مری ہوئی گائیں شہر کے کلکٹر کے دفتر میں پھینکیں۔ انھوں نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ ریاست میں اب دلت دوسروں کی مری ہوئی گائے پھنکنے کا کام نہیں کریں گے۔
’گئو رکشا‘ نام کی ہندو تنظیم کے کارکنوں کے ہاتھوں دلتوں کو زد کوب کیے جانے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر پوریا دنیا میں دیکھا گیا ہے۔ اس واقعے کے خلاف حقوق انسانی کی تنظیموں نے بھی شدید رد عمل ظاہر کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس واقعے کے بعد سےگجرات کے مختلف علاقوں میں کم از کم پندرہ دلت نوجوانوں نے احتجاجا زہر کھا کر خودکشی کرنے کی کشش کی تاہم بر وقت طبی امداد سے انہیں بچا لیا گیا ہے۔ صورتحال کشیدہ ہے۔
صورتحال کا سیاسی فائدہ اٹھاتے ہوئے کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے زد وکوب کیے گئے دلت نوجوانوں سے ہسپتال میں ملاقات کی ہے۔







