کابل کے ’محنت کش بچوں کا گٹار سکول‘

- مصنف, کاوون خاموش
- عہدہ, بی بی سی، کابل
برطانوی میوزک گروپ کولڈ پلے کے ایک مشہور گیت کو ترجمے کے ساتھ پیش کیا جائے تو شاید ہی آپ نے اس سے پہلے ایسی موسیقی سنی ہو۔
افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک فلیٹ میں کمسن لڑکیاں اپنے گٹاروں پر انگلیاں پھیرتے ہوئے مشہور گیت ’ڈونٹ پینِک‘ کا خودساختہ فارسی ترجمہ گا رہی ہیں۔
ان کے ساتھ گٹار بجانے والے کا حلیہ خاصی حد تک کسی مغربی راک موسیقار جیسا ہے، کلائیوں میں بینڈ اور بنڈانا وغیرہ۔
یہ ’میراکلس لو کڈز‘ یعنی معجزانہ پیار والے بچے ہیں۔ یہ میوزک سکول گلیوں میں کام کرنے والے بچوں کے لیے امریکی گٹارسٹ لینی کورڈولا نے قائم کیا ہے۔
جس دن میں نے وہاں کا دورہ کیا تو راہداری میں مجھے 20 یا اس سے زائد مٹی میں اٹے جوتے اور سلیپرز دکھائی دیے، جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ بچوں نے کابل کی گلیوں میں مصروف دن گزارا ہے۔
دیوار میں لگی بڑی بڑی تصویروں نے میری توجہ اپنی جانب مرکوز کی۔ ان میں دو خوبصورت مسکراتی ہوئی لڑکیوں، پروانہ اور خورشید کی تصاویر تھیں، یہ دونوں بہنیں چار سال قبل کابل میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر کے قریب ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔

یہ انھی کی کہانی تھی جس سے اس چھوٹے سے سکول کے قیام کا خیال سامنے آیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
موسیقی کے آلات پر گانے کی مشق کرنے والوں میں پروانہ اور خورشید کی چھوٹی بہن 12 سالہ مرسل بھی شامل ہیں۔
مرسل اس وقت صرف سات برس کی تھیں جب وہ اپنی بہنوں کے ہمراہ کابل میں بین الاقوامی فوجیوں کے احاطے کے قریب رومال، شال اور ہاتھ سے تیار کردہ دیگر اشیا فروخت کرنے گئی تھیں۔
فوجیوں کی نقل و حرکت محدود تھی، چنانچہ بہت سارت بچے نیٹو ہیڈکوارٹرز کے نزدیک اشیا فروخت کرتے تھے۔
آٹھ ستمبر 2012 کو صبح کے وقت بہنیں اسی مقام پر پہنچیں۔ چونکہ اس دن وہاں پر بہت سارے بچے تھے وہ الگ ہوگئیں۔ مرسل کو ایک طرف گلی کی جانب بھیج دیا گیا جبکہ بڑی بہنیں مرکزی دروازے کے قریب ہی رک گئیں۔
اس کے کچھ دیر کے بعد ایک 14 سالہ خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے کم از کم چھ بچے ہلاک ہوگئے، مرسل کی بہنیں بھی ان میں شامل تھیں۔

ان کی موت کی خبروں کو بڑے پیمانے پر نشر کیا گیا اور اس کی وجہ صرف یہ نہیں تھی پروانہ اور خورشدی کابل کے پہلے سکیٹ بورڈنگ سکول سے منسلک سے تھیں جو گلیوں میں کام کرنے والے بچوں کی تعلیم اور سکیٹنگ سے وابستہ ایک خیراتی ادارہ ہے۔
ایک فری لانس صحافی کورٹنی بوڈی جو انھیں اچھی طرح جانتی تھیں ان کا کہنا ہے کہ ’وہ بہت زیادہ خوبصورت ننھی لڑکیاں تھیں۔‘
وہ یاد کرتی ہیں کہ ’میں وہ دن کبھی نہیں بھول سکتی جب میں ان کو وزیر اکبر خان بازار میں خریداری کے لیے اپنے ساتھ لے گئی تھی، اور انھوں نے میرے ہاتھ تھامے ہوئے تھے جب میں ایک سٹور کی جانب جا رہے تھے۔‘
’مجھے بہت غصہ تھا کہ انھیں ایساف کے دروازوں کے اتنا قریب جانے کی اجازت تھی۔ میرا خیال تھا کہ شاید وہ غیر ملکیوں کو اشیا بیچ کر زیادہ پیسے کمانا چاہتی تھیں، لیکن انھیں تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے تھا۔‘

اس کہانی کے بارے میں لاس اینجنلس میں مقیم امریکی راک موسیقار لینی کورڈولا نے نیویارک ٹائمز میں پڑھا۔ اس واقعے نے ان کو بے حد متاثر کیا۔
کورڈولا کہتے ہیں: ’میں نے افغانستان آنے کے بارے میں کبھی سوچا نہیں تھا، لیکن دو سال قبل میں پروانہ اور خورشید کے خاندان کو ملنے آیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت وہ ایشیا کا سفر کر رہے تھے۔ چار ماہ پہلے ان کے ذہن میں اس خیال نے جنم لیا: دارالحکومت میں گلیوں میں کام کرنے والے بچوں کے لیے گٹار سکول کھولا جائے۔

،تصویر کا ذریعہLanny Cordola
لینی کوڈولا کہتے ہیں: ’ایک ایسا بینڈ تیار کرنے کا منصوبہ ہے جو دنیا بھر میں سفر کر سکے، موسیقی بجا سکے، انھیں اپنی زندگیوں اور افغانستان کے لوگوں کی کہانی بتا سکے۔‘
’اور پھر وہ اسی طرح کے پس منظر والی لڑکیوں کے ساتھ مل کر کام کر سکیں، دنیا کے مختلف علاقوں کے بچوں کے ساتھ اور اسے ایک بین الاقوامی، عالمی روایت کی شکل میں بدل سکیں۔‘
یہ لڑکیوں کے لیے بہت بڑی امنگ ہے، جن میں سے بہت ساروں سے ذاتی سطح پر رنج و الم کا سامنا کیا ہے۔
ان میں سے ایک کابل میں ایک خودکش دھماکے میں اپنا پورا خاندان کھو دیا، ایک اور 13 سالہ اپنے والدین کی جانب سےگلیوں میں کام کرنے پر مجبور ہے۔

مرسل کے نزدیک ’میراکلس لو کڈز‘ پراجیکٹ نے ان کی زندگی میں بہت سی تبدیلیاں رونما کر دی ہیں۔
وہ اپنے موسیقی کے استاد کے بارے میں کہتی ہیں: ’پروانہ اور خورشید کی موت کے پانچ سال بعد ایسا ہوا۔‘
’ہم ایک ریستوران میں گئے اور انھوں نے مجھے بتایا ’یہ مسٹر لینی ہیں‘۔ انھوں نے مجھے ایک گٹار دیا اور اب میں نے اسے بجانا اور گانا شروع کر دیا ہے۔ اس نے میری زندگی بدل دی ہے اور ایک نئی دنیا کھول دی ہے۔‘
چند ماہ بعد گٹار والی لڑکیاں اب موسیقی کو (سکول سے) باہر لے جانے کی تیاری کر رہی ہیں۔
کورڈولا کہتے ہیں: ’ہمیں کچھ کنسرٹس میں مدعو کیا گیا ہے تاہم وہ ابھی تیار نہیں ہیں۔‘
وہ بتاتے ہیں: ’ایک دن ہم وزیر اکبر خان گئے اور میں نے اور مرسل نے موسیقی پیش کی۔ وہ کوئی 40-30 (افراد) تھے، جن میں زیادہ تر مرد تھے اور وہ حیران ہو رہے تھے کہ یہ ایک امریکی شخص ہے اور چھوٹی افغان لڑکی دری میں گانا گا رہی ہے۔‘

جب میں مرسل کے خاندان سے ملنے ان کے گھر گیا تو ان کی والدہ جو ایک پولیس اہلکار ہیں انھوں نے مجھے بتایا کہ انھوں نے مسلسل عدم تحفظ میں اپنے بچوں کی پرورش کی، ایک ہاتھ سے کام کیا اور اس ہاتھ سے اس کو پالا۔
وہ اپنی بیٹی کو ڈاکٹر یا انجینیئر بنانے کا خواب دیکھتی ہیں۔
تاہم مرسل کا کہنا ہے کہ وہ اب ایک استانی بننا چاہتی ہیں اور ’دنیا کی تمام لڑکیوں کو گٹار سکھانا چاہتی ہیں۔‘ اور وہ پرامن مستقبل کی امید کرتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں: ’مجھے اپنی ماں پر یقین ہے، وہ ایک پولیس وومن ہیں اور ان جیسے بہت سارے لوگ امن کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔‘
جب میں نے مرسل سے ان کے پسندیدہ گیت یا گلوکار کے بارے میں پوچھا تو ان کا جواب تھا ’باب مارلے۔‘








