افغان ٹی وی پر افغان چہروں کی کمی دور کرنے کی کوشش

- مصنف, کاوون خاموش
- عہدہ, بی بی سی فارسی، کابل
افغانستان میں درجنوں ابھرتے ہوئے نوجوان ماڈلز کو ایک نئے منصوبے کے تحت مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ ملک کے ٹی وی اور اشتہاروں میں زیادہ افغان چہرے نظر آ سکیں۔
کابل کے مغربی حصے میں قائم ایک ماڈرن آفس میں درجنوں خوبرو نوجوان صبر کے ساتھ قطار بنائے کھڑے ہیں۔ بہترین فِٹنگ والے سُوٹ اور مغربی طرز کے بال کسی فیشن شو کے لیے موزوں ہیں اور فیشن شوز ہی ہیں جہاں ان میں سے بیشتر پہنچنا چاہتے ہیں۔
تین سو سے زیادہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں گوہر شاپنگ مال میں موجود ایک فوٹو سٹوڈیو میں کابل ماڈلنگ کلب اینڈ مینیجمنٹ کے ساتھ رجسٹریشن کے لیے آئے ہوئے ہیں جو کہ افغانستان میں اپنی طرز کا پہلا منصوبہ ہے۔
یہ سب ہی نئے ہیں اور ان کو ماڈلنگ کی دنیا کے بڑے سٹارز کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پروفیشنل بننے کا شوق ہے۔
ماڈل بننے کے خواہش مند محمد فیّاض کا کہنا ہے: ’میرا رول ماڈل اطالوی فیشن ڈیزائنر روبِرتو کیوالی ہے۔ مجھے اس کے سٹائل نے متاثر کیا ہے۔‘
فیاض کہتے ہیں کہ افغانستان میں فیشن ماڈل بننے کی کاوش سیکیورٹی اور معاشی حالات کے باعث ایک مشکل عمل ہے۔
تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’لیکن مجھے ماڈلنگ کا بہت شوق ہے۔ اسی لیے میں یہاں آیا ہوں۔خوش قسمتی سے حالات اب بہتر ہو رہے ہیں۔ اب ہمیں اپنے شوق پر عمل کرنے کی پہلے سے زیادہ آزادی حاصل ہے۔‘
سوشل میڈیا پر بھرتی مہم کے بعد فیاض اور ان کے ساتھی ماڈل اب تین روزہ کاسٹنگ کے عمل سے گزر رہے ہیں جس میں پروفیشنل فوٹو شوٹ بھی شامل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

نئے چہرے
ان نئے منصوبوں کا انعقاد کابل کی دو میڈیا کمپنیوں کلاسک سٹوڈیو آف فلاسفی اور وژن میڈیا پروڈکشن نے کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کا مقصد نئے اور پروفیشنل ماڈلز کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کر کے افغان ماڈلز کی ایک ڈائریکٹری تشکیل دینا ہے جسے ماڈلنگ انڈسٹری استعمال کر سکے۔
ادریس صالحی منتظمین میں سے ایک ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے فیصلہ کیا کہ ایسے تمام لوگوں کو جو ماڈلنگ کا شوق رکھتے ہیں اور ٹی وی، اشتہارات، میگزین حتہ کہ فلموں میں کام کرنا چاہتے ہیں کو ایک جگہ اکٹھا کیا جائے۔
یہ احساس اس امر کے بعد پیدا ہوا جس میں ایک عالمی انوسٹمنٹ کمپنی نے موجودہ افغان ماڈلز کو اس لیے کام دینا بند کر دیا کیونکہ وہی چہرے مختلف اشتہارات میں بار بار نظر آ رہے تھے۔
کچھ پروڈکشن کمپنیوں نے افغان ماڈلز کی قلت کے بائث غیر ملکی اداکاروں کا استعمال بھی کیا ہے۔
پاکستان میں بنے کئی اشتہارات جو افغان ٹی وی چینلوں پر نظر آتے ہیں میں آپ غیر ملکی مردوں اور عورتوں کو دیکھ سکتے ہیں جن کی آوازیں افغان ناظرین کے لیے افغانستان کی مقامی ذبانوں میں ڈب کی گئی ہیں۔
افغان پروڈکشن کمپنیاں ان اشتہارات کو نئے افغان چہروں کے ساتھ متعارف کرانے میں ناکام رہیں۔

فیشن کی نئی سمت
13 برس قبل نوجوان لڑکے اس طرز کے ملبوسات جو یہاں نظر آ رہے ہیں نہیں پہن سکتے تھے۔
طالبان نے لباس کے معاملے میں کڑے قوانین جاری کر رکھے تھے۔ یہاں تک کہ نوجوانوں کو اپنے بال اور داڑھی سٹائل کرنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔
چھوٹے بال، لمبی داڑھی، سفید ٹوپی اور پگڑی معمول تھیں۔
وہ سب اب بدل چکا ہے۔ آج کابل میں کئی شاپنگ مال ہیں جن میں مغربی برانڈ کے ملبوسات میسر ہیں۔
دکانوں کی کھڑکیوں میں آدھے بازوؤں والے ملبوسات آویزاں ہیں جو خواتین اندرونِ خانہ، نجی محفلوں اورصرف خواتین مہمانوں پر مبنی شادی بیاہ کی تقاریب میں پہنتی ہیں۔
مرد حضرات بھی مغربی برانڈ کے ملبوسات چاہتے ہیں۔ افغانستان کے بیشتر علاقوں میں اب بھی برقع اور روایتی لباس عام ہے تاہم کابل کے مرکز میں آپ کو لڑکے لڑکیاں جدید سٹائل کے ملبوسات میں نظر آتے ہیں۔
ان تمام تبدیلیوں کے باوجود قدامت پسند روایات فیشن ماڈلنگ کے شائقین، بطورِ خاص لڑکیوں کے لیے کڑی حدود اور مشکلات پیدا کرتی ہیں۔

سرخ لکیر
فیشن شوٹ کے لیے صرف چند ہی نوجوان لڑکیاں آئیں اور ان سب ہی نے مجھ سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔
ماڈلنگ تو درکنار، خواتین کا ٹی وی پر دِکھنا بیشتر خاندانوں کے لیے ایک سرخ لکیر کی حیثیت رکھتا ہے باوجود اس کے کہ اکثر ٹی وی چینلوں پر خواتین اینکر موجود ہیں۔
یہ ہدایت کاروں اور پروڈیوسروں کے لیے ایک مسئلہ ہے جس کے باعث انہیں اکثر ایرانی، پاکستانی یا تاجک اداکاراؤں اور ماڈلز کی جانب رخ کرنا پڑتا ہے۔
رویا فلم ہاؤس کی مالک رویا سادات کو افغان فلموں، ٹی وی سیریز اور وڈیو شوٹس پر کام کرنے کا کئی سالوں کا تجربہ ہے۔ ان کے مطابق فلم بنانے میں سب سے مشکل مرحلہ کاسٹنگ ہے اور خاس طور پر خواتین کے رول کے لیے کاسٹنگ۔

رویا کہتی ہیں کہ ’افغان اداکار اور اداکاراؤں میں رول کے بارے میں لچک نہیں ہے ۔جب ہم اداکاراؤں کے لیے کاسٹنگ کر رہے ہوں تو کئی بار وہ سکرپٹ میں کوئی غیر معمولی سین دیکھ کر انکار کر دیتی ہیں‘۔
’غیر معمولی‘ سین سے مراد ایسے سین ہیں جو قدامت پسند ناظرین کو شاید پسند نہ آئیں۔
رویا بتاتی ہیں کہ ’میری ایک ٹی وی سیریز میں ایک سین تھا جس میں شوہر اور بیوی کو بستر پر سوتا دکھایا گیا تھا‘۔
رویا کہتی ہیں کہ حالات کی نزاکت کے پیشِ نظر انہوں نے فیصلہ کیا کہ جیسے ہی میاں بیوی بستر پر لیٹیں تو سین میں بتیاں گُل کر دی جائیں لیکن یہ بھی کچھ لوگوں کے لیے بہت زیادہ تھا۔
’جب سیریز نشر ہوئی تو اس اداکارہ نے مجھے فون کر کے بتایا کہ اُس کے خاندان نے اُس پر تشدد کیا کیونکہ وہ جاننا چاہتے تھے کہ بتیاں گُل ہونے کے بعد کیا ہوا تھا‘۔

رویا کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات کے باوجود پچھلے دس برسوں میں کئی تبدیلیاں آئی ہیں اور ماڈلز اور اداکاروں کے لیے حالات بہتر ہو رہے ہیں۔
فیاض جیسے ابھرتے ہوئے ماڈلز اس نئی آزادی کو استعمال کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ انھیں امید ہے کہ ماڈلنگ کا نیا رجسٹر نئے مواقع فراہم کرنے اور افغانستان میں ایک باقائدہ پروفیشنل انڈسٹری قائم کرنے میں مدد دے گا۔
فیاض کہتے ہیں کہ ’کابل اور ملک کے دوسرے حصوں میں ماڈلنگ کے مجھ جیسے کئی شائقین موجود ہیں لیکن ہم منظم نہیں۔ اسی لیے ایک پروفیشنل ایجنسی کا قیام ہمیں اکٹھا کر کے مستحکم کر سکے گا‘۔







