افغان قیدی خواتین کی کہانیاں

کئی خواتین گھر سے بھاگنے کی وجہ سے سزائیں کاٹ رہی ہیں

گذشتہ چار سال کے دوران پولش کینیڈین فوٹوگرافر گیبریئیلا میج نے افغانستان کے طول و عرض کا سفر کیا اور خواتین کی جیلوں میں جا کر چند کہانیاں تصویر بند کیں۔ قیدیوں کی تصاویر اور کہانیاں کو ان کے پہلے رسالے ’آلمنڈ گارڈن‘ یعنی باداموں کے باغ میں شائع کیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنگذشتہ چار سال کے دوران پولش کینیڈین فوٹوگرافر گیبریئیلا میج نے افغانستان کے طول و عرض کا سفر کیا اور خواتین کی جیلوں میں جا کر چند کہانیاں تصویر بند کیں۔ قیدیوں کی تصاویر اور کہانیاں کو ان کے پہلے رسالے ’آلمنڈ گارڈن‘ یعنی باداموں کے باغ میں شائع کیا گیا ہے۔
میج کی تصاویر کے ساتھ ان حالات کا ذکر کیا گیا ہے جس میں ان خواتین پر جرم ثابت ہوا اور انہیں سزا ہوئی۔ میج کے مطابق ان خواتین کے تحفظ کے لیے ان کے اصل نام استعمال نہیں کیے گئے ہیں اور جان بوجھ کر ان کی کہانیوں کو ان کی تصاویر کے ساتھ بیان نہیں کیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمیج کی تصاویر کے ساتھ ان حالات کا ذکر کیا گیا ہے جس میں ان خواتین پر جرم ثابت ہوا اور انہیں سزا ہوئی۔ میج کے مطابق ان خواتین کے تحفظ کے لیے ان کے اصل نام استعمال نہیں کیے گئے ہیں اور جان بوجھ کر ان کی کہانیوں کو ان کی تصاویر کے ساتھ بیان نہیں کیا گیا ہے۔
ہر کہانی میں اس خاتون کا جرم ، اس کی عمر اور سزا کا عرصہ بتایا گیا ہے۔ تصاویر اور کہانیوں کو اس لیے جان بوجھ کر الگ شائع کیا گیا ہے تاکہ کوئی بھی خاتون جس جرم کی سزا کاٹ رہی ہے وہ کہیں اس کی پہچان نہ بنا لی جائے۔
،تصویر کا کیپشنہر کہانی میں اس خاتون کا جرم ، اس کی عمر اور سزا کا عرصہ بتایا گیا ہے۔ تصاویر اور کہانیوں کو اس لیے جان بوجھ کر الگ شائع کیا گیا ہے تاکہ کوئی بھی خاتون جس جرم کی سزا کاٹ رہی ہے وہ کہیں اس کی پہچان نہ بنا لی جائے۔
میج نے افغانستان میں پہلی بار سنہ 2010 میں بدام باغ میں خواتین کی جیل میں کام کیا تھا۔ اس جیل میں منشیات کی سمگلنگ اور قاتلوں کے ہمراہ ’اخلاقی جرائم‘ کی مرتکب خواتین بھی قید تھیں۔ وہاں بچے بھی اپنی ماؤں کے ہمراہ قید تھے۔
،تصویر کا کیپشنمیج نے افغانستان میں پہلی بار سنہ 2010 میں بدام باغ میں خواتین کی جیل میں کام کیا تھا۔ اس جیل میں منشیات کی سمگلنگ اور قاتلوں کے ہمراہ ’اخلاقی جرائم‘ کی مرتکب خواتین بھی قید تھیں۔ وہاں بچے بھی اپنی ماؤں کے ہمراہ قید تھے۔
کئی خواتین گھر سے بھاگنے کی وجہ سے سزائیں کاٹ رہی تھیں۔ جبری شادیوں اور گھریلو تشدد سے بھاگنا افغانستان میں کوئی غیر معمولی بات نہیں۔
،تصویر کا کیپشنکئی خواتین گھر سے بھاگنے کی وجہ سے سزائیں کاٹ رہی تھیں۔ جبری شادیوں اور گھریلو تشدد سے بھاگنا افغانستان میں کوئی غیر معمولی بات نہیں۔
میج نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’بدام باغ میں پہلے دن میری ملاقات کئی نوجوان خواتین سے ہوئی جن کی زندگیاں حقِ خود ارادیت جیسے حق سے محروم تھیں، یہ وہ حق تھا جو مجھے ہمیشہ حاصل تھا اور میں اس کی اتنی قدر نہیں کرتی تھی۔
،تصویر کا کیپشنمیج نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’بدام باغ میں پہلے دن میری ملاقات کئی نوجوان خواتین سے ہوئی جن کی زندگیاں حقِ خود ارادیت جیسے حق سے محروم تھیں، یہ وہ حق تھا جو مجھے ہمیشہ حاصل تھا اور میں اس کی اتنی قدر نہیں کرتی تھی۔
’جیسے جیسے میرا پروجیکٹ آگے بڑھا میں ان کے قصواروار ہونے یا بے قصور ہونے میں کم بلکہ اس بات کے بارے میں زیادہ فکر مند ہونے لگی تھی کہ ان کی ذاتی کہانیاں اور تصاویر اکٹھی کی جائیں تاکہ ان خواتین کے انفرادی وجود کا ریکارڈ رکھا جا سکے۔‘
،تصویر کا کیپشن’جیسے جیسے میرا پروجیکٹ آگے بڑھا میں ان کے قصواروار ہونے یا بے قصور ہونے میں کم بلکہ اس بات کے بارے میں زیادہ فکر مند ہونے لگی تھی کہ ان کی ذاتی کہانیاں اور تصاویر اکٹھی کی جائیں تاکہ ان خواتین کے انفرادی وجود کا ریکارڈ رکھا جا سکے۔‘
’آلمنڈ گارڈن: پوٹریٹ فرام دی وومنز پریزنز اِن افغانستان‘ کو ڈی لائٹ بکس www.daylightbooks.org نے شائع کیا ہے۔ آپ گیبریئیلا میج کا کام اس ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں: www.gabrielamaj.com
،تصویر کا کیپشن’آلمنڈ گارڈن: پوٹریٹ فرام دی وومنز پریزنز اِن افغانستان‘ کو ڈی لائٹ بکس www.daylightbooks.org نے شائع کیا ہے۔ آپ گیبریئیلا میج کا کام اس ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں: www.gabrielamaj.com