کیا کشمیر میں ہلاکتوں سے بچا جا سکتا تھا؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی، دہلی
گذشتہ ہفتے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں جب سکیورٹی فورسز نے کارروائی کر کے ایک مشہور نوجوان جنگجو رہنما کو ہلاک کیا تھا تو یقیناً انھیں اندازہ تھا کہ مسلمان اکثریت کی اس وادی میں اس کا ردِ عمل کیا ہو گا۔
آخر سوشل میڈیا کے شوقین برہان وانی وادی میں بھارتی اقتدار کے خلاف لڑنے والے مقامی باغی جنگجو ہی تو تھے اور کشمیر میں آج کل اس طرح کے 100 کے قریب مقامی جنگجو موجود ہیں، جو کہ اب 2011 کی نسبت چار گنا زیادہ ہیں۔
کشمیر کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور قائدِ حزبِ اختلاف عمر عبداللہ نے برہان کی موت کے بعد ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’وانی کی قبر کے اندر سے لوگوں کو عسکریت پسندی کے لیے بھرتی کرنے کی صلاحیت سوشل میڈیا کے ذریعے ایسا کرنے سے کہیں زیادہ ہو گی۔‘
ایک مرتبہ پھر جب کشمیر میں اس ہلاکت پر غم و غصے کا اظہار ہوا، وہی پرانا سکرپٹ ایک مرتبہ پھر دہرایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہ
برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں کم سے کم 36 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 1500 سے زائد زخمی ہیں جن میں سے درجنوں کی آنکھوں میں چھرّے لگنے کی وجہ ان کی بینائی جانے کا بھی خدشہ ہے۔
زخمی ہونے والوں میں زیادہ تعداد 16 سے 26 سال کے نوجوانوں کی ہے۔ بدھ کو کرفیو کو لگے ہوئے پانچ دن ہو گئے اور اس طرح یہ 2008 اور 2010 کے بعد سے سب برا محاصرہ بن گیا ہے، جب 200 افراد جن میں زیادہ تعداد احتجاج کرنے والے عام شہریوں کی تھی، سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ گذشتہ ہفتے سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی تھی۔ لیکن ایسے الزمات تو ہمیشہ ہی لگتے رہے ہیں۔
اخبار رائزنگ کشمیر کے ایڈیٹر شجاعت بخاری کہتے ہیں کہ ’حقیقت یہ ہے کہ اختتامِ ہفتہ پر انھوں نے غیر متناسب طاقت استعمال کی تھی، جب زیادہ تر ہلاکتیں ہوئیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
سکیورٹی کے ماہرین کہتے ہیں کہ بھارتی فورسز، آرمی، نیم فوجی دستے، بارڈر گارڈز، اندرونِ ملک شورش کو روکنے کے لیے پوری طرح لیس نہیں ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کو غیر ملکی دشمن سے لڑنے کی تربیت دی گئی ہے۔
کشمیر میں، جہاں سکیورٹی قائم رکھنے کے لیے فوج کا عمل دخل دنیا میں سب سے زیادہ ہے، اپنے ہی لوگوں کو مارنے سے وہ قابض فوج کی طرح نظر آتے ہیں۔پولیس نہ کشمیر اور نہ ہی انڈیا میں کوئی بہت ہی اچھی نظر سے دیکھی جاتی ہے۔ اسے 155 سالہ نو آبادیاتی قانون کے تحت چلایا جاتا ہے اور اس میں کبھی اصلاحات نہیں کی گئیں۔
علاقے میں شورش شروع ہونے کی دو دہائیوں بعد بھی سکیورٹی فورسز ہجوم کو کنٹرول کرنے کے جدید طریقوں سے نا آشنا نظر آتی ہیں۔ پانی کی توپوں، ’سکنک‘ سپرے، اور آواز پیدا کرنے والی مشین کو استعمال کرنے کی باتیں ہوتی رہیں ہیں لیکن سکیورٹی فورسز نے ان کی جگہ چھرے والی بندوقیں استعمال کی ہیں جن کی وجہ سے کئی افراد کی آنکھوں پر کافی زخم آئے ہیں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اختتامِ ہفتہ کو ہونے والے ہنگاموں میں 100 سے زیادہ افراد کو آنکھوں میں چھرے لگے اور خدشہ ہے کہ ان میں سے اکثر اپنی بینائی کھو سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز نے اسلحہ اور آنسو گیس بھی استعمال کی ہے۔ حالیہ تشدد کے واقعات میں 100 سے زیادہ افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ ایک تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ ’کشمیر میں گولی مار کر ہلاک کرنے سے آپ دل اور دماغ نہیں جیت سکتے۔‘
علاقائی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے اتحاد سے بننے والی کشمیر کی حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ جہاں جہاں انھیں پتہ چلا کہ سکیورٹی فورسز نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا ہے وہاں ان کو اس کا جواب دینا پڑے گا۔
کشمیر میں کسی کو بھی یقین نہیں کہ ایسا ہو گا۔ 1990 سے لے کر اب تک کشمیر میں شورش کے حوالے سے 20 سے زیادہ سرکاری تحقیقات کی گئی ہیں مگر ان میں سے زیادہ تر کے متعلق کچھ پتہ نہیں کہ ان کا نتیجہ کیا نکلا۔
سابق حکومت نے 2010 میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 120 افراد کی ہلاکتوں، جن میں سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی تھی، کی تحقیقات شروع کی تھیں۔ کشمیر میں انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کہتے ہیں کہ ’نہ کسی کو سزا دی گئی، نہ ہی کسی پر مقدمہ چلا۔ کشمیر میں سکیورٹی فورسز کو 100 فیصد استثنی حاصل ہے۔‘
یقیناً یہ کشمیر کے پیچیدہ مسئلے کا ایک حصہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
گذشتہ ہفتے کی شورش سے ایک مرتبہ پھر اس بات کا اندازہ ہوا کہ کسی سیاسی حل کے بغیر کشمیر کا قضیہ بگڑتا جائے گا۔
سنہ 2010 میں کشمیریوں کے رویوں پر کیے گئے ایک سروے میں 81 فیصد مقامی افراد نے کہا تھا کہ سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری ہے، جبکہ 68 فیصد نے کرپشن اور 45 فیصد نے بری اقتصادی ترقی کو الزام دیا۔ تاہم پھر بھی 80 فیصد نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ان کے لیے بہت اہم ہے۔
بروکنگز انسٹیٹیوشن کے سٹیفن کوہن کہتے ہیں کہ ’اگر کشمیری احساسات پر دھیان نہیں دیا گیا تو پاکستان اور انڈیا میں تعلقات میں بہتری سے بھی کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔‘
ریسرچ اینڈ انیلیسس ونگ (را) کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دولت نے اپنی حالیہ سوانح حیات میں لکھا ہے کہ ’ہم نے کشمیر میں عسکریت پسندی کو قابو کرنے میں بہت سال ضائع کیے۔ اور جب ہم نے اسے قابو کر لیا تو ہم آرام سے بیٹھ گئے اور سٹیٹس کو یا موجودہ حالت پر مطمئن ہو گئے، حالانکہ ان حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی حل ڈھونڈنا چاہیے تھا۔‘
ایسا نہیں لگتا کہ اس مرتبہ اس سے کچھ مختلف ہو گا۔







