’انڈیا سے نہیں پالیسیوں سے نفرت کرتے ہیں‘

شہری حقوق کی علم بردار کویتا کرشنن نے کہا کہ حکومت کشمیر میں باقی ملک سے مختلف پالیسیاں اختیار کرتی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشہری حقوق کی علم بردار کویتا کرشنن نے کہا کہ حکومت کشمیر میں باقی ملک سے مختلف پالیسیاں اختیار کرتی ہے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کی تاریخی عمارت جنتر منتر پر سارا سال مظاہروں کا میلہ لگا رہتا ہے۔ یہ دہلی کا ہائیڈ پارک ہے۔ جسے حکومت سے کوئی شکایت ہو، اور شنوائی نہ ہو رہی ہو، تو وہ جنتر منتر کا ہی رخ کرتا ہے۔

شاید اس امید میں کہ قریب ہی واقع پارلیمان تک اس اس کی آواز پہنچ جائے گی۔

٭ <link type="page"><caption> ہلاکتوں میں مزید اضافہ، یومِ شہدا پر احتجاج کی کال</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/07/160713_kashmir_martyr_day_protests_zh.shtml" platform="highweb"/></link>

٭ <link type="page"><caption> ’سیاح کشمیر میں رہنے اور آنے سے ڈرتے ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/07/160713_kashmir_tourism_affected_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

بدھ کی دوپہر وہاں کشمیر کی موجودہ صورت حال کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔ کشمیرمیں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد وہاں 35 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور وادی کے زیادہ تر علاقوں میں کرفیو نافذ ہے۔

مظاہرے کی اپیل انسانی اور شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے کی تھی اور خاموش مارچ میں شرکت کے لیے پہنچنے والے زیادہ تر چہرے جانے پہچانے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے وابستہ ہیں اور اکثر جنتر منتر پہنچ کر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔

بہرحال، کچھ تقاریر ہوئیں اور کچھ مشورے دیے گئے۔

مظاہرے کی اپیل انسانی اور شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے دی تھی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمظاہرے کی اپیل انسانی اور شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے دی تھی

دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی طالب علم رہنما شہلا رشید نے کہا کہ برہان وانی کو گرفتار کیا جانا چاہیے تھا، پھر ان پر مقدمہ چلتا اور عدالت جو مناسب سمجھتی، انھیں وہ سزا دیتی۔

قریب ہی کھڑے ایک صحافی نے کہا کہ ’میڈم وہاں مسلح تحریک چل رہی ہے۔۔۔‘

شہری حقوق کی علم بردار کویتا کرشنن نے کہا کہ حکومت کشمیر میں باقی ملک سے مختلف پالیسیاں اختیار کرتی ہے۔ ’جب ہریانہ میں پر تشدد مظاہرے ہو رہے تھے تو پولیس کی گولیوں سے کتنے لوگ مارے گئے تھے؟‘

مظاہرے میں بنیادی طور پر یہ مطالبہ کیا گیا کہ جموں و کشمیر سے وہ قانون ہٹایا جائے جس کے تحت وہاں مسلح افواج کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں، اور حکومت مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے بات چیت کا سلسلہ شروع کرے۔

لیکن یہ بات چیت پہلے بھی کئی مرتبہ ہو چکی ہے اور کسی نتیجے پر نہیں پہنچی۔ مظاہرے میں صرف دو تین کشمیری نوجوان ہی شریک تھے۔ ان میں سے ایک نے کہا: ’ہم انڈیا سے نہیں حکومت کی پالیسیوں سے نفرت کرتے ہیں۔‘

کشمیرمیں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد وہاں 35 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکشمیرمیں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد وہاں 35 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں

ایک اور کشمیری نوجوان نے کہا کہ امن کی اپیلوں سے کچھ نہیں ہوتا، وزیر اعظم کو خاموشی توڑنی چاہیے اور کشمیر کے مسئلے کو ترجیحات کی فہرست میں سب سے اوپر لایا جانا چاہیے۔

کسی نے کہا کہ اس بات سے انکار نہیں کہ برہان وانی جزب المجاہدین کے کمانڈر تھے، لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ لوگ ان کے جنازے میں شریک نہیں ہو سکتے، یا ان کے گھر والوں کے ساتھ ہمدردی نہیں کر سکتے۔

مظاہرے کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لیے بھی وہاں کچھ نوجوان موجود تھے۔ ظاہر ہے کہ وہ فوج اور حکومت کی حمایت میں وہاں آئے تھے۔ انھوں نے ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگائے۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ ’اس دیش میں آزادی نہ ہوتی تو یہ لوگ یہاں آ کر دیش کے خلاف باتیں کرنے کی ہمت نہ کرتے۔‘

کشمیر پر کوئی بحث ہو تو وہ کبھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچتی۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ فریقین اپنے موقف میں ذرا بھی نرمی دکھانے کو تیار نہیں۔ یہی شاید اس مسئلے کے حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔