مبلغ ذاکر نائیک کی’قابل اعتراض‘ تقاریر کی تحقیقات

،تصویر کا ذریعہfacebook
انڈیا کی حکومت نے کہا ہے کہ ملک کے معروف اسلامی اسکالر اور مبلغ ذاکر نائیک کی مبینہ قابل اعتراض تقاریر کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اگر ضرورت ہوئی تو کارروائی کی جائےگي۔
اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق ذاکر نائیک کی تقاریر ’قابل اعتراض‘ ہیں اور اس بارے میں تحقیقات کے بعد مناسب کارروائی وزارت داخلہ کرے گي۔
ذاکر نائیک کا معروف ادارہ ’اسلامک ریسرچ سینٹر‘ ممبئی میں واقع ہے اور اس دوران مہاراشٹر کی حکومت نے بھی ممبئی پولیس کو اسلامی مبلغ ذاکر نائیک کی تقاریر کی تفتیش کرنے کے بعد اس پر رپورٹ جمع کرنے کی ہدایات دی ہیں۔
انڈین خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق مہاراشٹر کی حکومت نے تفتیش کے بعد ’مناسب کارروائی‘ کی بھی بات کہی ہے۔
ریاست کے وزیراعلیٰ دیوندر فڈنویس نے ممبئی کے پولیس کمشنر کو احکامات دیے ہیں کہ ذاکر نائیک کی تقاریر اور اور ان کے ادراے کی فنڈنگ کی تفتیش کے بعد رپورٹ پیش کی جائے۔
ذاکر نائیک کا آفس ممبئی کے ڈونگري کے علاقے میں واقع ہے جہاں پر سکیورٹی فورسز کو تعینات کر دیا گيا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPeace TV
ذاکر نائیک سے متعلق یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب اس طرح کی خبریں میڈیا میں نشر کی جانے لگیں کہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے حملہ آور ذاکر نائیک سے متاثر تھے۔
اطلاعات کے مطابق کچھ حملہ آور ذاکر نائیک کو سنا کرتے تھے۔گذشتہ جمعے کو ہونے والے اس حملے میں حملہ آوروں سمیت 28 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اس طرح کے تمام الزامات سے انکار کیا ہے کہ وہ اپنی تبلیغ سے کسی بھی طرح کی شدت پسندی پھیلاتے ہیں۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا کوئی بھی ایسا ایک بھی خطاب نہیں ہے جس میں انھوں نے کسی معصوم کی جان لینے کی بات کہی ہو، چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم۔
انڈین میڈیا میں گذشتہ چند روز سے ذاکر نائیک کے حوالے سے بحث ہو رہی ہے اور بیشتر میڈیا گروپس کی جانب سے ان پر سخت تنقید ہو رہی ہے۔ڈاکٹر ذاکر نائیک ’پیس ٹی وی‘ کے شریک آپریٹر ہیں۔







