اے سی کے بجائے برف سے کام چلائیں

رپورٹس کے مطابق یونیورسٹی نے 28 ٹن برف کے لیے 750 ڈالر خرچ کیے ہیں

،تصویر کا ذریعہTENCENT TV

،تصویر کا کیپشنرپورٹس کے مطابق یونیورسٹی نے 28 ٹن برف کے لیے 750 ڈالر خرچ کیے ہیں

چین کی ایک یونیورسٹی میں برف کے برے بڑے بلاک منگوائے گئے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ طالب علموں نے شکایت کی ہے کہ ان کے لیے گرمی میں ٹھنڈک کا انتظام نہیں ہے۔

بیجنگ سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق لشان کالج جو کہ جنوبی چین کے لیوژہو یونیورسٹی میں ہے وہاں ہر شام ایک گاڑی میں برف لائی جاتی ہے۔ اس وقت وہاں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔

یہ کالج گوانزی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یونیورسٹی نے 28 ٹن برف کے لیے 750 ڈالر خرچ کیے ہیں۔

سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طالب علم برف کی سلوں کو توڑ رہے ہیں اور انھیں بالٹیوں میں بھر کر اپنے ہوسٹل کی جانب لے کر جا رہے ہیں۔

چائنا نیوز سروس سے گفتگو میں ایک شخص نے بتایا کہ وہ اس برف کو اپنے گھر میں موجود پینے کے پانی کو ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔ تاہم سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین کا کہنا خیال ہے کہ یونیورسٹی کو اس مسئلے کے حل کے لیے ایئر کنڈیشنر کی ضرورت ہے۔

مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ایک شخص نے لکھا کہ یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔

تاہم ایک اور صارف نے لکھا کہ ’میرے خیال سے یہ بہت اچھا ہے، یہ ماحول دوست اقدام ہے۔‘

حالیہ ہفتوں میں دیگر یونیورسٹیوں کے طالب علموں نے بھی شدید گرمی کی شکایت کی تھی

،تصویر کا ذریعہTENCENT TV

،تصویر کا کیپشنحالیہ ہفتوں میں دیگر یونیورسٹیوں کے طالب علموں نے بھی شدید گرمی کی شکایت کی تھی

یونیورسٹی کے ایک اہلکار نے کہا کہ ابھی اے سی نہیں لگائے جا سکتے کیونکہ مقامی پاور گرڈ میں اتنا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں ہے۔اس لیے برف ہی عارضی حل ہے۔

حالیہ ہفتوں میں دیگر یونیورسٹیوں کے طالب علموں نے بھی شدید گرمی کی شکایت کی تھی۔ کچھ نے باہر سونا شروع کر دیا تھا جبکہ کہ کچھ نے سوشل میڈیا پر گرمی کو کنٹرول کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے حوالے سے تصاویر لگانی شروع کر دی تھیں۔